صحيح مسلم حدیث نمبر: 6570
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 2575
Sahih Muslim 6570
کتاب #45: حسن سلوک، صلہ رحمی اور ادب
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أُمِّ السَّائِبِ، أَوْ أُمِّ الْمُسَيَّبِ، فَقَالَ: مَا لَكِ يَا أُمَّ السَّائِبِ، أَوْ يَا أُمَّ الْمُسَيَّبِ تُزَفْزِفِينَ؟ قَالَتْ: الْحُمَّى لَا بَارَكَ اللَّهُ فِيهَا، فَقَالَ: " لَا تَسُبِّي الْحُمَّى، فَإِنَّهَا تُذْهِبُ خَطَايَا بَنِي آدَمَ كَمَا يُذْهِبُ الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ ".
ابوزبیر نے کہا: ہمیں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ایک انصاری خاتون) حضرت ام سائب یا حضرت ام مسیب رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے، آپ نے فرمایا: ”ام سائب یا (فرمایا:) ام مسیب! تجھے کیا ہوا؟ کیا تم شدت سے کانپ رہی ہو؟“ انہوں نے کہا: بخار ہے، اللہ تعالیٰ اس میں برکت نہ دے! آپ نے فرمایا: ”بخار کو برا نہ کہو، کیونکہ یہ آدم کی اولاد کے گناہوں کو اس طرح دور کرتا ہے جس طرح بھٹی لوہے کے زنگ کو دور کرتی ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 6570]