صحيح مسلم حدیث نمبر: 6500
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 2548
Sahih Muslim 6500
کتاب #45: حسن سلوک، صلہ رحمی اور ادب
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جَمِيلِ بْنِ طَرِيفٍ الثَّقَفِيُّ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ صَحَابَتِي؟ قَالَ: أُمُّكَ، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ثُمَّ أُمُّكَ، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ثُمَّ أُمُّكَ؟ قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ثُمَّ أَبُوكَ "، وَفِي حَدِيثِ قُتَيْبَةَ: مَنْ أَحَقُّ بِحُسْنِ صَحَابَتِي، وَلَمْ يَذْكُرِ النَّاسَ.
قتیبہ بن سعید بن جمیل بن طریف ثقفی اور زہیر بن حرب نے کہا: ہمیں جریر نے عمارہ بن قعقاع سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوزرعہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی: لوگوں میں سے حسنِ معاشرت (خدمت اور حسن سلوک) کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ”تمہاری ماں۔“ اس نے کہا: پھر کون؟ فرمایا: ”پھر تمہاری ماں۔“ اس نے پوچھا: اس کے بعد کون؟ فرمایا: ”پھر تمہاری ماں۔“ اس نے پوچھا: پھر کون؟ فرمایا: ”پھر تمہارا والد۔“ اور قتیبہ کی حدیث میں ہے: میرے اچھے برتاؤ کا زیادہ حقدار کون ہے؟ اور انہوں نے "لوگوں میں سے" کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 6500]