📖 صحيح مسلم • فہرست کتب (Book Index) ↗

صحيح مسلم - حدیث نمبر 6496

Sahih Muslim Hadith 6496 (صَحِيحُ مُسْلِمٍ)
کتاب #44 📁 صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب (كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ) ← 🏷️ باب: ثقیف کے جھوٹے اور ہلاکو کا بیان۔
عربی:
اردو:
صحيح مسلم حدیث نمبر: 6496 🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 2545 Sahih Muslim 6496
کتاب #44: صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب
58: باب ذِكْرِ كَذَّابِ ثَقِيفٍ وَمُبِيرِهَا:
🏷️ باب: ثقیف کے جھوٹے اور ہلاکو کا بیان۔
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيَّ ، أَخْبَرَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ، عَنْ أَبِي نَوْفَلٍ ، رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ عَلَى عَقَبَةِ الْمَدِينَةِ، قَالَ: فَجَعَلَتْ قُرَيْشٌ تَمُرُّ عَلَيْهِ وَالنَّاسُ حَتَّى مَرَّ عَلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، فَوَقَفَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ أَبَا خُبَيْبٍ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَبَا خُبَيْبٍ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَبَا خُبَيْبٍ، أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ كُنْتُ أَنْهَاكَ عَنْ هَذَا، أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ كُنْتُ أَنْهَاكَ عَنْ هَذَا، أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ كُنْتُ أَنْهَاكَ عَنْ هَذَا، أَمَا وَاللَّهِ إِنْ كُنْتَ مَا عَلِمْتُ صَوَّامًا قَوَّامًا وَصُولًا لِلرَّحِمِ، أَمَا وَاللَّهِ لَأُمَّةٌ أَنْتَ أَشَرُّهَا لَأُمَّةٌ خَيْرٌ، ثُمَّ نَفَذَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، فَبَلَغَ الْحَجَّاجَ مَوْقِفُ عَبْدِ اللَّهِ وَقَوْلُهُ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ، فَأُنْزِلَ عَنْ جِذْعِهِ، فَأُلْقِيَ فِي قُبُورِ الْيَهُودِ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى أُمِّهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، فَأَبَتْ أَنْ تَأْتِيَهُ فَأَعَادَ عَلَيْهَا الرَّسُولَ لَتَأْتِيَنِّي أَوْ لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْكِ مَنْ يَسْحَبُكِ بِقُرُونِكِ، قَالَ: فَأَبَتْ، وَقَالَتْ: وَاللَّهِ لَا آتِيكَ حَتَّى تَبْعَثَ إِلَيَّ مَنْ يَسْحَبُنِي بِقُرُونِي، قَالَ: فَقَالَ: أَرُونِي سِبْتَيَّ فَأَخَذَ نَعْلَيْهِ، ثُمَّ انْطَلَقَ يَتَوَذَّفُ حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: كَيْفَ رَأَيْتِنِي صَنَعْتُ بِعَدُوِّ اللَّهِ؟ قَالَتْ: رَأَيْتُكَ أَفْسَدْتَ عَلَيْهِ دُنْيَاهُ، وَأَفْسَدَ عَلَيْكَ آخِرَتَكَ بَلَغَنِي أَنَّكَ، تَقُولُ لَهُ: يَا ابْنَ ذَاتِ النِّطَاقَيْنِ، أَنَا وَاللَّهِ ذَاتُ النِّطَاقَيْنِ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكُنْتُ أَرْفَعُ بِهِ طَعَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَطَعَامَ أَبِي بَكْرٍ مِنَ الدَّوَابِّ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَنِطَاقُ الْمَرْأَةِ الَّتِي لَا تَسْتَغْنِي عَنْهُ، أَمَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدَّثَنَا " أَنَّ فِي ثَقِيفٍ كَذَّابًا، وَمُبِيرًا، فَأَمَّا الْكَذَّابُ: فَرَأَيْنَاهُ، وَأَمَّا الْمُبِيرُ: فَلَا إِخَالُكَ إِلَّا إِيَّاهُ، قَالَ: فَقَامَ عَنْهَا، وَلَمْ يُرَاجِعْهَا ".
ہمیں اسود بن شیبان نے ابونوافل سے خبر دی، کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ (کے جسد خاکی) کو شہر کی گھاٹی میں (کھجور کے ایک تنے سے لٹکا ہوا) دیکھا، کہا: تو قریش اور دوسرے لوگوں نے وہاں سے گزرنا شروع کر دیا، یہاں تک کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے تو وہ ان (ابن زبیر رضی اللہ عنہ) کے پاس کھڑے ہو گئے، اور (انہیں مخاطب کرتے ہوئے) کہا: ابوخبیب! آپ پر سلام! ابوخبیب! آپ پر سلام! ابوخبیب! آپ پر سلام! اللہ گواہ ہے کہ میں آپ کو اس سے روکتا تھا، اللہ گواہ ہے کہ میں آپ کو اس سے روکتا تھا، اللہ گواہ ہے کہ میں آپ کو اس سے روکتا تھا، اللہ کی قسم! آپ، جتنا مجھے علم ہے بہت روزے رکھنے والے، بہت قیام کرنے والے، بہت صلہ رحمی کرنے والے تھے۔ اللہ کی قسم! وہ امت جس میں آپ سب سے بُرے (قرار دیے گئے) ہوں، وہ امت تو پوری کی پوری بہترین ہو گی (جبکہ اس میں تو بڑے بڑے ظالم، قاتل اور مجرم موجود ہیں۔ آپ کسی طور پر اس سلوک کے مستحق نہ تھے۔) پھر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ وہاں سے چلے گئے۔ حجاج کو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے وہاں کھڑے ہونے کی خبر پہنچی تو اس نے کارندے بھیجے، ان (کے جسد خاکی) کو کھجور کے تنے سے اتارا گیا اور انہیں جاہلی دور کی یہود کی قبروں میں پھینک دیا گیا، پھر اس نے (ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی والدہ) حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کے پاس کارندہ بھیجا۔ انہوں نے اس کے پاس جانے سے انکار کر دیا۔ اس نے دوبارہ قاصد بھیجا کہ یا تو تم میرے پاس آؤ گی یا پھر میں تمہارے پاس ان لوگوں کو بھیجوں گا جو تمہیں تمہارے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے لے آئیں گے۔ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے پھر انکار کر دیا اور فرمایا: میں ہرگز تیرے پاس نہ آؤں گی یہاں تک کہ تو میرے پاس ایسے شخص کو بھیجے جو مجھے میرے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے لے جائے۔ کہا: تو حجاج کہنے لگا: مجھے میرے جوتے دکھاؤ، اس نے جوتے پہنے اور اکڑتا ہوا تیزی سے چل پڑا، یہاں تک کہ ان کے ہاں پہنچا اور کہا: تم نے مجھے دیکھا کہ میں نے اللہ کے دشمن کے ساتھ کیا کیا؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے تمہیں دیکھا ہے کہ تم نے اس پر اس کی دنیا تباہ کر دی جبکہ اس نے تمہاری آخرت برباد کر دی، مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تو اسے دو پیٹیوں والی کا بیٹا (ابن ذات النطاقین) کہتا ہے۔ ہاں، اللہ کی قسم! میں دو پیٹیوں والی ہوں۔ ایک پیٹی کے ساتھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا کھانا سواری کے جانور پر باندھتی تھی اور دوسری پیٹی وہ ہے جس سے کوئی عورت مستغنی نہیں ہو سکتی (سب کو لباس کے لیے اس کی ضرورت ہوتی ہے۔) اور سنو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا تھا کہ بنو ثقیف میں ایک بہت بڑا کذاب ہو گا اور ایک بہت بڑا سفاک ہو گا۔ کذاب (مختار ثقفی) کو تو ہم نے دیکھ لیا اور رہا سفاک تو میں نہیں سمجھتی کہ تیرے علاوہ کوئی اور ہو گا، کہا: تو وہ وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا اور انہیں کوئی جواب نہ دے سکا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 6496]
صحيح مسلم • حدیث #6496
6494 6495 6496 6497 6498

📖 اسی کتاب کی دیگر احادیث (Related Hadiths)

#6169 حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، وعبد الله بن عبد الرحمن الدارمي ، قَالَ عَبْد...
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا، کہا: جس وقت ہم غار میں تھ...
#6170 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ يَحْيَي بْنِ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ ، حَدَّثَنَا م...
امام مالک نے ابونضر سے، انہوں نے عبید بن حنین سے، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی ا...
#6171 حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّض...
سالم نے ابونضر سے، انہوں نے عبید بن حنین اور بسر بن سعید سے، انہوں نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ایک دن...
#6172 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُ...
اسماعیل بن رجاء نے کہا: میں نے عبداللہ بن ابی ہذیل کو ابواحوص سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، انہوں نے کہا: میں نے عبداللہ ب...
#6173 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَ...
شعبہ نے ابواسحاق سے، انہوں نے ابواحوص سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسل...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ