صحيح مسلم حدیث نمبر: 6479
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 2537
Sahih Muslim 6479
کتاب #44: صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ: حَدَّثَنَا، وقَالَ عَبْدٌ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أن عبد الله بن عمر ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ صَلَاةَ الْعِشَاءِ فِي آخِرِ حَيَاتِهِ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَكُمْ لَيْلَتَكُمْ هَذِهِ، فَإِنَّ عَلَى رَأْسِ مِائَةِ سَنَةٍ مِنْهَا لَا يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَحَدٌ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَوَهَلَ النَّاسُ فِي مَقَالَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ فِيمَا يَتَحَدَّثُونَ مِنْ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ عَنْ مِائَةِ سَنَةٍ، وَإِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَحَدٌ "، يُرِيدُ بِذَلِكَ أَنْ يَنْخَرِمَ ذَلِكَ الْقَرْنُ.
معمر نے زہری سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے سالم بن عبداللہ اور ابوبکر بن سلیمان نے بتایا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات مبارکہ کے آخری حصے میں ایک رات ہمیں عشاء کی نماز پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو کھڑے ہو گئے تو فرمایا: ”کیا تم لوگوں نے اپنی اس رات کو دیکھا ہے؟ (اسے یاد رکھو) بلاشبہ اس رات سے سو سال کے بعد جو لوگ (اس رات میں) روئے زمین پر موجود ہیں ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں ہو گا۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: (بعض) لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے متعلق غلط فہمیوں میں مبتلا ہوئے ہیں جو اس میں سو سال کے حوالے سے مختلف باتیں کر رہے ہیں (کہ سو سال بعد زندگی کا خاتمہ ہو جائے گا)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا: ”آج جو لوگ روئے زمین پر موجود ہیں ان میں سے کوئی باقی نہیں ہو گا۔“ آپ کا مقصود یہ تھا کہ اس قرن (اس دور میں رہنے والے لوگوں) کا خاتمہ ہو جائے گا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 6479]