صحيح مسلم حدیث نمبر: 6448
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 2522.4
Sahih Muslim 6448
کتاب #44: صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ جُهَيْنَةُ، وَأَسْلَمُ، وَغِفَارُ، خَيْرًا مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، وَبَنِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَطَفَانَ، وَعَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ، وَمَدَّ بِهَا صَوْتَهُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَدْ خَابُوا وَخَسِرُوا، قَالَ: فَإِنَّهُمْ خَيْرٌ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ: أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ جُهَيْنَةُ، وَمُزَيْنَةُ، وَأَسْلَمُ، وَغِفَارُ ".
ابوبکر بن ابی شیبہ اور کریب نے۔۔۔ اور الفاظ ابوبکر کے ہیں۔۔۔ حدیث بیان کی، دونوں نے کہا: ہمیں وکیع نے سفیان سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبدالملک بن عمیر سے، انہوں نے عبدالرحمان بن ابی بکرہ سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ کیا سمجھتے ہو اگر جہینہ، اسلم اور غفار بنو تمیم، بنو عبداللہ، بنو غطفان اور عامر بن صعصہ سے بہتر ہوں۔“ اور (پوچھتے ہوئے) آپ نے آواز بلند کی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: اللہ کے رسول! پھر وہ (لوگوں کے نزدیک اپنی عزت بڑھانے میں) ناکام ہوں گے اور کم مرتبہ ہو جائیں گے۔ آپ نے فرمایا: ”بے شک وہ ان سے بہتر ہیں۔“ ابوکریب کی روایت میں ہے: ”تم کیا سمجھتے ہو اگر جہینہ اور مزینہ اور اسلم اور غفار“ (مزینہ کے نام کا اضافہ ہے جس طرح متعدد دوسری روایات میں بھی مزینہ کا نام شامل ہے)۔ [صحيح مسلم/حدیث: 6448]