صحيح مسلم حدیث نمبر: 6354
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 2471
Sahih Muslim 6354
کتاب #44: صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ كِلَاهُمَا، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ جِيءَ بِأَبِي مُسَجًّى، وَقَدْ مُثِلَ بِهِ، قَالَ: فَأَرَدْتُ أَنْ أَرْفَعَ الثَّوْبَ، فَنَهَانِي قَوْمِي، ثُمَّ أَرَدْتُ أَنْ أَرْفَعَ الثَّوْبَ، فَنَهَانِي قَوْمِي، فَرَفَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ أَمَرَ بِهِ فَرُفِعَ، فَسَمِعَ صَوْتَ بَاكِيَةٍ أَوْ صَائِحَةٍ، فَقَالَ: مَنْ هَذِهِ؟ فَقَالُوا: بِنْتُ عَمْرٍو، أَوْ أُخْتُ عَمْرٍو، فَقَالَ: وَلِمَ تَبْكِي، فَمَا زَالَتِ الْمَلَائِكَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّى رُفِعَ ".
سفیان بن عیینہ نے کہا: میں نے ابن منکدر کو یہ کہتے ہوئے سنا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: جب احد کی جنگ ہوئی تو میرے والد کو کپڑے سے ڈھانپ کر لایا گیا، ان کا مثلہ کیا گیا تھا (ان کے چہرے تک کے اعضاء کاٹ دیے گئے تھے) میں نے چاہا کہ میں کپڑا اٹھاؤں (اور دیکھوں) تو میری قوم کے لوگوں نے مجھے روک دیا، میں نے پھر کپڑا اٹھانا چاہا تو میری قوم نے مجھے روک دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آ کر کپڑا اٹھایا، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو کپڑا اٹھایا گیا تو (اس وقت) ایک رونے والی یا چیخنے والی کی آواز آئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ تو لوگوں نے بتایا: عمرو کی بیٹی (شہید ہونے والے عبداللہ کی بہن) ہے یا (کہا:) عمرو کی بہن (شہید کی پھوپھی) ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کیوں روتی ہے؟ ان (کے جنازے) کو اٹھائے جانے تک فرشتوں نے اپنے پروں سے ان پر سایہ کیا ہوا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 6354]