📖 صحيح مسلم • فہرست کتب (Book Index) ↗

صحيح مسلم - حدیث نمبر 6313

Sahih Muslim Hadith 6313 (صَحِيحُ مُسْلِمٍ)
کتاب #44 📁 صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب (كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ) ← 🏷️ باب: سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کی فضیلت۔
عربی:
اردو:
صحيح مسلم حدیث نمبر: 6313 🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 2450.1 Sahih Muslim 6313
کتاب #44: صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب
15: باب فَضَائِلِ فَاطِمَةَ بِنْتِ النَّبِيِّ عَلَيْهَا الصَّلاَةُ وَالسَّلاَمُ:
🏷️ باب: سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کی فضیلت۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كُنَّ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهُ، لَمْ يُغَادِرْ مِنْهُنَّ وَاحِدَةً، فَأَقْبَلَتْ فَاطِمَةُ تَمْشِي مَا تُخْطِئُ مِشْيَتُهَا مِنْ مِشْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، فَلَمَّا رَآهَا رَحَّبَ بِهَا، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِابْنَتِي، ثُمَّ أَجْلَسَهَا عَنْ يَمِينِهِ، أَوْ عَنْ شِمَالِهِ، ثُمَّ سَارَّهَا، فَبَكَتْ بُكَاءً شَدِيدًا، فَلَمَّا رَأَى جَزَعَهَا سَارَّهَا الثَّانِيَةَ فَضَحِكَتْ، فَقُلْتُ لَهَا: خَصَّكِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْنِ نِسَائِهِ بِالسِّرَارِ، ثُمَّ أَنْتِ تَبْكِينَ، فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَأَلْتُهَا: مَا قَالَ لَكِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: مَا كُنْتُ أُفْشِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرَّهُ، قَالَتْ: فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: عَزَمْتُ عَلَيْكِ بِمَا لِي عَلَيْكِ مِنَ الْحَقِّ لَمَا حَدَّثْتِنِي، مَا قَالَ لَكِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَتْ: أَمَّا الْآنَ فَنَعَمْ أَمَّا حِينَ سَارَّنِي فِي الْمَرَّةِ الْأُولَى فَأَخْبَرَنِي، أَنَّ جِبْرِيلَ كَانَ يُعَارِضُهُ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ سَنَةٍ مَرَّةً، أَوْ مَرَّتَيْنِ، وَإِنَّهُ عَارَضَهُ الْآنَ مَرَّتَيْنِ، وَإِنِّي لَا أُرَى الْأَجَلَ إِلَّا قَدِ اقْتَرَبَ، فَاتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي، فَإِنَّهُ نِعْمَ السَّلَفُ أَنَا لَكِ، قَالَتْ: فَبَكَيْتُ بُكَائِي الَّذِي رَأَيْتِ، فَلَمَّا رَأَى جَزَعِي سَارَّنِي الثَّانِيَةَ، فَقَالَ يَا فَاطِمَةُ: أَمَا تَرْضَيْ أَنْ تَكُونِي سَيِّدَةَ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ، أَوْ سَيِّدَةَ نِسَاءِ هَذِهِ الْأُمَّةِ، قَالَتْ: فَضَحِكْتُ ضَحِكِي الَّذِي رَأَيْتِ ".
ابوعوانہ نے فراس سے، انہوں نے عامر سے، انہوں نے مسروق سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سب ازواج آپ کے پاس موجود تھیں، ان میں سے کوئی (وہاں سے) غیر حاضر نہیں ہوئی تھی، اتنے میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا چلتی ہوئی آئیں، ان کی چال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چال سے ذرہ برابر مختلف نہ تھی۔ جب آپ نے انہیں دیکھا تو ان کو خوش آمدید کہا اور فرمایا: ”میری بیٹی کو خوش آمدید!“ پھر انہیں اپنی دائیں یا بائیں جانب بٹھایا، پھر راز داری سے ان کے ساتھ بات کی تو وہ شدت سے رونے لگیں۔ جب آپ نے ان کی شدید بے قراری دیکھی تو آپ نے دوبارہ ان کے کان میں کوئی بات کہی تو ہنس پڑیں۔ (بعد میں) میں نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو چھوڑ کر خاص طور پر آپ سے راز داری کی بات کی، آپ روئیں (کیوں؟) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (اس جگہ سے) تشریف لے گئے تو میں نے ان سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے کیا کہا؟ انہوں نے کہا: میں ایسی نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز فاش کر دوں، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا تو میں نے ان سے کہا: میرا آپ پر جو حق ہے میں اس کی بنا پر اصرار کرتی ہوں (اور یہ اصرار جاری رہے گا) الا یہ کہ آپ مجھے بتائیں کہ آپ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کہا تھا؟ انہوں نے کہا: اب (اگر آپ پوچھتی ہیں) تو ہاں، پہلی بار جب آپ نے سرگوشی کی تو مجھے بتایا: ”جبریل علیہ السلام آپ کے ساتھ سال میں ایک یا دو مرتبہ قرآن کا دور کیا کرتے تھے اور ابھی انہوں نے ایک ساتھ دو بار دور کیا ہے اور مجھے اس کے سوا کچھ نظر نہیں آتا کہ اجل (مقررہ وقت) قریب آ گیا ہے، اس لیے تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرتے ہوئے صبر کرنا، میں تمہارے لیے بہترین پیش رو ہوں گا۔“ (حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: اس پر میں اس طرح روئی جیسا آپ نے دیکھا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری شدید بے قراری دیکھی تو دوسری بار میرے کان میں بات کی اور فرمایا: ”فاطمہ! کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ تم ایماندار عورتوں کی سردار بنو یا (فرمایا:) اس امت کی عورتوں کی سردار بنو؟“ کہا: تو اس پر میں اس طرح سے ہنس پڑی جیسے آپ نے دیکھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 6313]
صحيح مسلم • حدیث #6313
6311 6312 6313 6314 6315

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#6307 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ كلاهما، عَنْ اللَّي...
لیث بن سعد نے کہا: ہمیں عبداللہ بن عبید اللہ بن ابی ملیکہ قرشی تیمی نے حدیث بیان کی کہ حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ ن...
#6308 حَدَّثَنِي أَبُو مَعْمَرٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْهُذَلِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ...
عمرو نے ابن ابی ملیکہ سے، انہوں نے حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرم...
#6309 حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَن...
محمد بن عمرو بن حلحلہ دؤلی نے کہا: ابن شہاب نے انہیں حدیث بیان کی، انہیں علی بن حسین نے حدیث بیان کی کہ حضرت حسین بن علی...
#6310 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخ...
شعیب نے زہری سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے علی بن حسین نے خبر دی کہ مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ حضرت ...
#6311 وحَدَّثَنِيهِ أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ ، حَدَّثَنَا وَهْبٌ يَعْنِي ابْنَ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، ...
نعمان بن راشد نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 6311]
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ