صحيح مسلم حدیث نمبر: 6298
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 2445
Sahih Muslim 6298
کتاب #44: صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ، فَطَارَتِ الْقُرْعَةُ عَلَى عَائِشَةَ، وَحَفْصَةَ، فَخَرَجَتَا مَعَهُ جَمِيعًا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ بِاللَّيْلِ سَارَ مَعَ عَائِشَةَ يَتَحَدَّثُ مَعَهَا، فَقَالَتْ: حَفْصَةُ لِعَائِشَةَ: أَلَا تَرْكَبِينَ اللَّيْلَةَ بَعِيرِي وَأَرْكَبُ بَعِيرَكِ، فَتَنْظُرِينَ وَأَنْظُرُ، قَالَتْ: بَلَى، فَرَكِبَتْ عَائِشَةُ عَلَى بَعِيرِ حَفْصَةَ، وَرَكِبَتْ حَفْصَةُ عَلَى بَعِيرِ عَائِشَةَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جَمَلِ عَائِشَةَ وَعَلَيْهِ حَفْصَةُ، فَسَلَّمَ، ثُمَّ سَارَ مَعَهَا حَتَّى نَزَلُوا، فَافْتَقَدَتْهُ عَائِشَةُ فَغَارَتْ، فَلَمَّا نَزَلُوا جَعَلَتْ تَجْعَلُ رِجْلَهَا بَيْنَ الْإِذْخِرِ، وَتَقُولُ: يَا رَبِّ سَلِّطْ عَلَيَّ عَقْرَبًا، أَوْ حَيَّةً، تَلْدَغُنِي رَسُولُكَ وَلَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقُولَ لَهُ شَيْئًا ".
قاسم بن محمد نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے جاتے تو اپنی ازواج کے درمیان قرعہ اندازی کرتے، ایک مرتبہ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے نام قرعہ نکلا، وہ دونوں آپ کے ساتھ سفر پر نکلیں، جب رات کا وقت ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ سفر کرتے اور ان کے ساتھ باتیں کرتے تو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: آج رات تم میرے اونٹ پر کیوں نہیں سوار ہو جاتیں اور میں تمہارے اونٹ پر سوار ہو جاتی ہوں، پھر تم بھی دیکھو اور میں بھی دیکھتی ہوں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیوں نہیں! پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ پر سوار ہو گئیں اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ پر سوار ہو گئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ کے پاس آئے تو اس پر حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا (سوار) تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کیا اور ان کے ساتھ چلتے رہے حتی کہ منزل پر اتر گئے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس نہیں پایا تو انہیں سخت رشک آیا، جب سب لوگ اترے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے پاؤں اذخر (کی گھاس) میں مار مار کر کہنے لگیں: یا رب! مجھ پر کوئی بچھو یا سانپ مسلط کر دے جو مجھے ڈس لے وہ تیرے رسول ہیں اور میں انہیں کچھ کہہ بھی نہیں سکتی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 6298]