صحيح مسلم حدیث نمبر: 6228
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 2408.3
Sahih Muslim 6228
کتاب #44: صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ سَعِيدٍ وَهُوَ ابْنُ مَسْرُوقٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَيْهِ، فَقُلْنَا لَهُ: لَقَدْ رَأَيْتَ خَيْرًا لَقَدْ صَاحَبْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَّيْتَ خَلْفَهُ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ أَبِي حَيَّانَ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: أَلَا وَإِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ ثَقَلَيْنِ أَحَدُهُمَا كِتَابُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، هُوَ حَبْلُ اللَّهِ مَنِ اتَّبَعَهُ كَانَ عَلَى الْهُدَى، وَمَنْ تَرَكَهُ كَانَ عَلَى ضَلَالَةٍ وَفِيهِ، فَقُلْنَا: مَنْ أَهْلُ بَيْتِهِ نِسَاؤُهُ؟ قَالَ: لَا وَايْمُ اللَّهِ إِنَّ الْمَرْأَةَ تَكُونُ مَعَ الرَّجُلِ الْعَصْرَ مِنَ الدَّهْرِ، ثُمَّ يُطَلِّقُهَا، فَتَرْجِعُ إِلَى أَبِيهَا وَقَوْمِهَا أَهْلُ بَيْتِهِ أَصْلُهُ، وَعَصَبَتُهُ الَّذِينَ حُرِمُوا الصَّدَقَةَ بَعْدَهُ.
سعید بن مسروق نے یزید بن حیان سے، انہوں نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہم ان (زید بن ارقم رضی اللہ عنہ) کے پاس آئے اور ان سے عرض کی: آپ نے بہت خیر دیکھی ہے۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نمازیں پڑھیں ہیں، اور پھر ابوحیان کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی، مگر انہوں نے (اس طرح) کہا: (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”دیکھو، میں تمہارے درمیان دو عظیم چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں۔ ایک اللہ کی کتاب ہے وہ اللہ کی رسی ہے جس نے (اسے تھام کر) اس کا اتباع کیا وہ سیدھی راہ پر رہے گا اور جو اسے چھوڑ دے گا وہ گمراہی پر ہوگا۔“ اور اس میں یہ بھی ہے کہ ہم نے ان سے پوچھا: آپ کے اہل بیت کون ہیں؟ (صرف) آپ کی ازواج؟ انہوں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! عورت اپنے مرد کے ساتھ زمانے کا بڑا حصہ رہتی ہے، پھر وہ اسے طلاق دے دیتا ہے تو وہ اپنے باپ اور اپنی قوم کی طرف واپس چلی جاتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کے اہل بیت وہ (بھی) ہیں جو آپ کے خاندان سے ہیں، آپ کے وہ ددھیال رشتہ دار جن پر صدقہ حرام ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 6228]