صحيح مسلم حدیث نمبر: 6183
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 2388.01
📖 صحيح مسلم باب:44 حدیث نمبر : 14
Sahih Muslim 6183
کتاب #44: صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب
1: باب مِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:
باب: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بزرگی کے بیان میں۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أنهما سمعا أبا هريرة ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَقَرَةً لَهُ قَدْ حَمَلَ عَلَيْهَا الْتَفَتَتْ إِلَيْهِ الْبَقَرَةُ، فَقَالَتْ: إِنِّي لَمْ أُخْلَقْ لِهَذَا، وَلَكِنِّي إِنَّمَا خُلِقْتُ لِلْحَرْثِ، فَقَالَ النَّاسُ: سُبْحَانَ اللَّهِ تَعَجُّبًا وَفَزَعًا أَبَقَرَةٌ تَكَلَّمُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَإِنِّي أُومِنُ بِهِ وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَيْنَا رَاعٍ فِي غَنَمِهِ عَدَا عَلَيْهِ الذِّئْبُ فَأَخَذَ مِنْهَا شَاةً، فَطَلَبَهُ الرَّاعِي حَتَّى اسْتَنْقَذَهَا مِنْهُ، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ الذِّئْبُ، فَقَالَ لَهُ: مَنْ لَهَا يَوْمَ السَّبُعِ يَوْمَ لَيْسَ لَهَا رَاعٍ غَيْرِي، فَقَالَ النَّاسُ: سُبْحَانَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَإِنِّي أُومِنُ بِذَلِكَ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ ".
یو نس نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے سعد بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبد الرحمان ( بن عوف ) نے حدیث سنائی کہ ان دونوں نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ایک شخص اپنی گا ئے کو ہانک رہاتھا اس پر بو جھ لادا ہوا تھا ۔ اس گائے نے منہ پیچھے کیا اور کہا : مجھے اس کا م کے لیے پیدا نہیں کیا گیا بلکہ کھیتی باڑی کے لیے پیدا کیا گیا ہے ۔ " لوگوں نے تعجب اور حیرت سے کہا : سبحان اللہ ! کیا گائے بولتی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " ( کسی اور کو یقین ہو نہ ہو ) میرا ابو بکر کا اور عمر کا اس پر ایمان ہے ۔ " حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " ایک چرواہااپنی بکریوں میں ( مو جود ) تھا کہ بھیڑیے نے اس پر حملہ کیا اور ایک بکری پکڑلی ، چرواہا اس کے پیچھے لگ گیا حتی کہ اس بکری کو بھیڑیے سے بچا لیا ۔ اس ( بھیڑیے ) نے کہا : اس دن اسے کون بچا ئے گا جب درندوں ( کے حملے ) کا دن آئے گا اور میرے سوا اس کا چرواہا ( مالک ) کو ئی نہ ہو گا ؟ " لوگوں نے کہا : سبحان اللہ !تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں اور ابو بکر اور عمر ( بھی یقین رکھتے ہیں ۔)