صحيح مسلم حدیث نمبر: 6025
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 2315
Sahih Muslim 6025
کتاب #43: انبیائے کرام علیہم السلام کے فضائل
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، وَشَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ كلاهما، عَنْ سُلَيْمَانَ، وَاللَّفْظُ لِشَيْبَانَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " وُلِدَ لِي اللَّيْلَةَ غُلَامٌ، فَسَمَّيْتُهُ بِاسْمِ أَبِي إِبْرَاهِيمَ، ثُمَّ دَفَعَهُ إِلَى أُمِّ سَيْفٍ امْرَأَةِ قَيْنٍ، يُقَالُ لَهُ: أَبُو سَيْفٍ، فَانْطَلَقَ يَأْتِيهِ، وَاتَّبَعْتُهُ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى أَبِي سَيْفٍ وَهُوَ يَنْفُخُ بِكِيرِهِ، قَدِ امْتَلَأَ الْبَيْتُ دُخَانًا، فَأَسْرَعْتُ الْمَشْيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ يَا أَبَا سَيْفٍ: أَمْسِكْ، جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمْسَكَ، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّبِيِّ، فَضَمَّهُ إِلَيْهِ وَقَالَ: مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، فَقَالَ أَنَسٌ: لَقَدْ رَأَيْتُهُ وَهُوَ يَكِيدُ بِنَفْسِهِ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَمَعَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: تَدْمَعُ الْعَيْنُ، وَيَحْزَنُ الْقَلْبُ، وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يَرْضَى رَبُّنَا، وَاللَّهِ يَا إِبْرَاهِيمُ إِنَّا بِكَ لَمَحْزُونُونَ ".
ثابت بنانی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”آج رات میرا ایک بیٹا پیدا ہوا ہے جس کا نام میں نے اپنے والد کے نام پر ابراہیم رکھا ہے۔“پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کو ابوسیف نامی لوہار کی بیوی حضرت ام سیف رضی اللہ عنہا کے سپرد کر دیا، پھر (ایک روز) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بچے کے پاس جانے کے لیے چل پڑے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلا ہم ابوسیف کے پاس پہنچے وہ بھٹی پھونک رہا تھا۔ گھر دھوئیں سے بھرا ہوا تھا۔ میں تیزی سے چلتا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے ہو گیا اور کہا: ابوسیف! رک جاؤ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں، وہ رک گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کو منگوا بھیجا، آپ نے اسے اپنے ساتھ لگا لیا اور جو اللہ چاہتا تھا، آپ نے فرمایا (محبت وشفقت کے بول بولے)۔ تو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے اس بچے کو دیکھا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کی آنکھوں) کے سامنے اپنی جان جان آفریں کے سپرد کر رہا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو آگئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”آنکھیں آنسو بہا رہی ہیں اور دل غم سے بھر ا ہوا ہے لیکن ہم اس کے سوا اور کچھ نہیں کہیں گے جس سے ہمارا پروردگار راضی ہو، اللہ کی قسم! ابراہیم! ہم آپ کی (جدائی کی) وجہ سے سخت غمزدہ ہیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 6025]