صحيح مسلم حدیث نمبر: 6006
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 2307
Sahih Muslim 6006
کتاب #43: انبیائے کرام علیہم السلام کے فضائل
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَي، قَالَ يَحْيَي: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحْسَنَ النَّاسِ، وَكَانَ أَجْوَدَ النَّاسِ، وَكَانَ أَشْجَعَ النَّاسِ، وَلَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَانْطَلَقَ نَاسٌ قِبَلَ الصَّوْتِ، فَتَلَقَّاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاجِعًا، وَقَدْ سَبَقَهُمْ إِلَى الصَّوْتِ وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ لِأَبِي طَلْحَةَ، عُرْيٍ فِي عُنُقِهِ السَّيْفُ، وَهُوَ يَقُولُ: لَمْ تُرَاعُوا، لَمْ تُرَاعُوا، قَالَ: وَجَدْنَاهُ بَحْرًا، أَوْ إِنَّهُ لَبَحْرٌ، قَالَ: وَكَانَ فَرَسًا يُبَطَّأُ ".
ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں میں سب سے بڑھ کر خوبصورت سب انسانوں سے بڑھ کر سخی اور سب سے زیادہ بہادر تھے۔ ایک رات اہل مدینہ (ایک آواز سن کر) خوف زدہ ہو گئے، صحابہ رضی اللہ عنہم اس آواز کی طرف گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اس جگہ سے واپس آتے ہوئے ملے، آپ سب سے پہلے آواز (کی جگہ) تک پہنچے، آپ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سوار تھے، آپ کی گردن مبارک میں تلوار حمائل تھی اور آپ فرما رہے تھے۔”خوف میں مبتلا نہ ہو خوف میں مبتلا نہ ہو۔“(پھر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”ہم نے اس (گھوڑے) کو سمندر کی طرح پایا ہے یا (فرمایا) وہ تو سمندر ہے۔“انہوں (انس رضی اللہ عنہ) نے کہا: اور (اس سے پہلے) وہ سست رفتار گھوڑا تھا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 6006]