صحيح مسلم حدیث نمبر: 5612
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 2144.01
📖 صحيح مسلم باب:38 حدیث نمبر : 27
Sahih Muslim 5612
کتاب #38: معاشرتی آداب کا بیان
5: باب اسْتِحْبَابِ تَحْنِيكِ الْمَوْلُودِ عِنْدَ وِلاَدَتِهِ وَحَمْلِهِ إِلَى صَالِحٍ يُحَنِّكُهُ وَجَوَازِ تَسْمِيَتِهِ يَوْمَ وِلاَدَتِهِ وَاسْتِحْبَابِ التَّسْمِيَةِ بِعَبْدِ اللَّهِ وَإِبْرَاهِيمَ وَسَائِرِ أَسْمَاءِ الأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ السَّلاَمُ:
باب: بچہ کے منہ میں کچھ چبا کر ڈالنے کا اور دوسری چیزوں کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قال: ذَهَبْتُ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وُلِدَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَبَاءَةٍ يَهْنَأُ بَعِيرًا لَهُ، فَقَالَ: " هَلْ مَعَكَ تَمْرٌ؟ "، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَنَاوَلْتُهُ تَمَرَاتٍ، فَأَلْقَاهُنَّ فِي فِيهِ، فَلَاكَهُنَّ ثُمَّ فَغَرَ فَا الصَّبِيِّ، فَمَجَّهُ فِي فِيهِ، فَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حُبُّ الْأَنْصَارِ التَّمْرَ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ ".
ثابت بنانی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : جب عبداللہ بن ابی طلہ پیدا ہوئے تو میں انھیں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دھاری دارعبا ( چادر ) زیب تن فرمائے اپنے ایک اونٹ کو ( خارش سے نجات دلانے کے لئے ) گندھک ( یاکول تار ) لگارہے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کچھ کھجور ساتھ ہے؟میں نے عرض کی : جی ہاں ، پھر میں نے آپ کو کچھ کھجوریں پیش کیں ، آپ نے ان کو اپنے منہ میں ڈالا ، انھیں چبایا ، پھر بچے کامنہ کھول کر ان کو اپنے دہن مبارک سے براہ راست اس کے منہ میں ڈال دیا ۔ بچے نے زبان ہلاکر اس کاذائقہ لینا شروع کردیا ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ انصار کی کھجوروں سے محبت ہے ۔ " اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام عبداللہ رکھا ۔