صحيح مسلم حدیث نمبر: 5364
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 2056
Sahih Muslim 5364
کتاب #36: مشروبات کا بیان
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى جَمِيعًا، عَنْ الْمُعْتَمِرِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ مُعَاذ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، وَحَدَّثَ أَيْضًا عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثِينَ وَمِائَةً، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ مَعَ أَحَدٍ مِنْكُمْ طَعَامٌ؟ "، فَإِذَا مَعَ رَجُلٍ صَاعٌ مِنْ طَعَامٍ أَوْ نَحْوُهُ، فَعُجِنَ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ مُشْرِكٌ مُشْعَانٌّ طَوِيلٌ بِغَنَمٍ يَسُوقُهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبَيْعٌ أَمْ عَطِيَّةٌ أَوَ قَالَ أَمْ هِبَةٌ؟ "، فَقَالَ: لَا بَلْ بَيْعٌ، فَاشْتَرَى مِنْهُ شَاةً، فَصُنِعَتْ وَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَوَادِ الْبَطْنِ أَنْ يُشْوَى، قَالَ: وَايْمُ اللَّهِ مَا مِنَ الثَّلَاثِينَ وَمِائَةٍ إِلَّا حَزَّ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُزَّةً حُزَّةً مِنْ سَوَادِ بَطْنِهَا، إِنْ كَانَ شَاهِدًا أَعْطَاهُ، وَإِنْ كَانَ غَائِبًا خَبَأَ لَهُ، قَالَ: وَجَعَلَ قَصْعَتَيْنِ، فَأَكَلْنَا مِنْهُمَا أَجْمَعُونَ وَشَبِعْنَا، وَفَضَلَ فِي الْقَصْعَتَيْنِ فَحَمَلْتُهُ عَلَى الْبَعِيرِ أَوْ كَمَا قَالَ.
ابوعثمان نے حضرت عبدالرحمان بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: سیدنا عبدالرحمان بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سو تیس آدمی تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا کسی کے پاس کھانا ہے؟“ ایک شخص کے پاس ایک صاع اناج نکلا یا تھوڑا کم یا زیادہ۔ پھر وہ سب گوندھا گیا۔ پھر ایک مشرک آیا، جس کے بال بکھرے ہوئے تھے لمبا بکریاں لے کر ہانکتا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو (بکری) بیچتا ہے یا ہدیہ دیتا ہے؟“ اس نے کہا کہ نہیں بیچتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ایک بکری خریدی تو اس کا گوشت تیار کیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلیجی، گردے، دل وغیرہ کو بھوننے کا حکم دیا، (حضرت عبدالرحمان رضی اللہ عنہ نے) کہا: اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سو تیس آدمیوں میں سے ہر ایک شخص کو اس کی کلیجی وغیرہ کا ایک ٹکڑا دیا، جو شخص موجود تھا اس کو دے دیا اور جو موجود نہیں تھا اس کے لیے رکھ لیا۔ (عبدالرحمان بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے) کہا: آپ نے (کھانے کے لیے) دو بڑے پیالے بنائے اور ہم سب نے ان دو پیالوں میں سے کھایا اور سیر ہو گئے، دونوں پیالوں میں کھانا پھر بھی بچ گیا تو میں نے اس کو اونٹ پر لاد لیا یا جس طرح انہوں نے کہا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5364]