صحيح مسلم حدیث نمبر: 5333
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 2045
Sahih Muslim 5333
کتاب #36: مشروبات کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَبَلَةَ بْنَ سُحَيْمٍ ، قَالَ: كَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَرْزُقُنَا التَّمْرَ، قَالَ: وَقَدْ كَانَ أَصَابَ النَّاسَ يَوْمَئِذٍ جَهْدٌ وَكُنَّا نَأْكُلُ، فَيَمُرُّ عَلَيْنَا ابْنُ عُمَرَ وَنَحْنُ نَأْكُلُ، فَيَقُولُ: لَا تُقَارِنُوا فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْإِقْرَانِ إِلَّا أَنْ يَسْتَأْذِنَ الرَّجُلُ أَخَاهُ "، قَالَ شُعْبَةُ: لَا أُرَى هَذِهِ الْكَلِمَةَ إِلَّا مِنْ كَلِمَةِ ابْنِ عُمَرَ يَعْنِي الِاسْتِئْذَانَ.
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی کہا: میں نے جبلہ بن سحیم سے سنا کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ہمیں کھجوروں کا راشن دیتے تھے ان دنوں لوگ قحط سالی کا شکار تھے۔ اور ہم (کھجوریں) کھاتے تھے۔ ہم کھا رہے ہوتے تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ ہمارے قریب سے گزرتے اور فرماتے: اکٹھی دو دو کھجوریں مت کھاؤ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اکٹھی دو دو کھجوریں کھانے سے منع فرمایا ہے، سوائے اس کے کہ آدمی اپنے (ساتھ کھانے والے) بھائی سے اجازت لے۔ شعبہ نے کہا: میرا یہی خیال ہے کہ یہ جملہ یعنی اجازت لینا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا اپنا قول ہے۔ (انہوں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت نہیں کیا۔) [صحيح مسلم/حدیث: 5333]