صحيح مسلم حدیث نمبر: 5323
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 2040.7
Sahih Muslim 5323
کتاب #36: مشروبات کا بیان
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي التُّجِيبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ ، أَنَّ يَعْقُوبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيَّ ، حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَوَجَدْتُهُ جَالِسًا مَعَ أَصْحَابِهِ يُحَدِّثُهُمْ وَقَدْ عَصَّبَ بَطْنَهُ بِعِصَابَةٍ، قَالَ أُسَامَةُ: وَأَنَا أَشُكُّ عَلَى حَجَرٍ، فَقُلْتُ: لِبَعْضِ أَصْحَابِهِ لِمَ عَصَّبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَطْنَهُ؟، فَقَالُوا: مِنَ الْجُوعِ، فَذَهَبْتُ إِلَى أَبِي طَلْحَةَ وَهُوَ زَوْجُ أُمِّ سُلَيْمٍ بِنْتِ مِلْحَانَ، فَقُلْتُ يَا أَبَتَاهُ: قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ عَصَّبَ بَطْنَهُ بِعِصَابَةٍ، فَسَأَلْتُ بَعْضَ أَصْحَابِهِ، فَقَالُوا: مِنَ الْجُوعِ، فَدَخَلَ أَبُو طَلْحَةَ عَلَى أُمِّي، فَقَالَ: هَلْ مِنْ شَيْءٍ؟، فَقَالَتْ: نَعَمْ عِنْدِي كِسَرٌ مِنْ خُبْزٍ وَتَمَرَاتٌ، فَإِنْ جَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحْدَهُ أَشْبَعْنَاهُ، وَإِنْ جَاءَ آخَرُ مَعَهُ، قَلَّ عَنْهُمْ ثُمَّ ذَكَرَ سَائِرَ الْحَدِيثِ بِقِصَّتِهِ.
اسامہ نے بتایا کہ یعقوب بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے انہیں حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہہ رہے تھے: ایک دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے ان سے باتیں کرتے ہوئے پایا۔ آپ نے بطن مبارک پر ایک پتھر کو ایک چوڑی سی پٹی سے باندھ رکھا تھا۔ اسامہ نے کہا: مجھے شک ہے (کہ یعقوب نے "پتھر" کا لفظ بولا یا نہیں)۔ میں نے آپ کے ایک ساتھی سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بطن کو کیوں باندھ رکھا ہے؟ لوگوں نے بتایا: بھوک کی بنا پر۔ پھر میں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا وہ (میری والدہ) حضرت ام سلیم بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے خاوند تھے میں نے ان سے کہا: ابا جان! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ نے پیٹ پر پٹی باندھ رکھی ہے میں نے آپ کے بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پوچھا: اس کا کیا سبب ہے؟ انہوں نے کہا بھوک۔ پھر حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ میری والدہ کے پاس گئے اور پوچھا: کہ کوئی چیز ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں میرے پاس روٹی کے ٹکڑے اور کچھ کھجوریں ہیں اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے ہمارے پاس تشریف لے آئیں تو ہم آپ کو سیر کر کے کھلا دیں گے۔ اور اگر کوئی اور بھی آپ کے ساتھ آیا تو یہ کھانا کم ہو گا پھر باقی ساری حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5323]