صحيح مسلم حدیث نمبر: 527
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 220.01
📖 صحيح مسلم باب:1 حدیث نمبر : 433
Sahih Muslim 527
کتاب #1: ایمان کے احکام و مسائل
94: باب الدَّلِيلِ عَلَى دُخُولِ طَوَائِفَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلاَ عَذَابٍ:
باب: مسلمانوں کے ایک گروہ کا بغیر حساب و عذاب کے جنت میں داخل ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: " كُنْتُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، فَقَالَ: أَيُّكُمْ رَأَى الْكَوْكَبَ الَّذِي انْقَضَّ الْبَارِحَةَ؟ قُلْتُ: أَنَا، ثُمَّ قُلْتُ: أَمَا إِنِّي لَمْ أَكُنْ فِي صَلَاةٍ، وَلَكِنِّي لُدِغْتُ، قَالَ: فَمَاذَا صَنَعْتَ؟ قُلْتُ: اسْتَرْقَيْتُ، قَالَ: فَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟ قُلْتُ: حَدِيثٌ حَدَّثَنَاهُ الشَّعْبِيُّ ، فَقَالَ: وَمَا حَدَّثَكُمْ الشَّعْبِيُّ؟ قُلْتُ: حَدَّثَنَا عَنْ بُرَيْدَةَ بْنِ حُصَيْبٍ الأَسْلَمِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ، فَقَالَ: قَدْ أَحْسَنَ مَنِ انْتَهَى إِلَى مَا سَمِعَ، وَلَكِنْ حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " عُرِضَتْ عَلَيَّ الأُمَمُ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ وَمَعَهُ الرُّهَيْطُ، وَالنَّبِيَّ وَمَعَهُ الرَّجُلُ وَالرَّجُلَانِ، وَالنَّبِيَّ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ، إِذْ رُفِعَ لِي سَوَادٌ عَظِيمٌ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُمْ أُمَّتِي، فَقِيلَ لِي: هَذَا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ وَقَوْمُهُ، وَلَكِنِ انْظُرْ إِلَى الأُفُقِ، فَنَظَرْتُ، فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ، فَقِيلَ لِي: انْظُرْ إِلَى الأُفُقِ الآخَرِ، فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ، فَقِيلَ لِي: هَذِهِ أُمَّتُكَ، وَمَعَهُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ، وَلَا عَذَابٍ، ثُمَّ نَهَضَ فَدَخَلَ مَنْزِلَهُ فَخَاضَ النَّاسُ فِي أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ، وَلَا عَذَابٍ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: فَلَعَلَّهُمُ الَّذِينَ صَحِبُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: فَلَعَلَّهُمُ الَّذِينَ وُلِدُوا فِي الإِسْلَامِ وَلَمْ يُشْرِكُوا بِاللَّهِ، وَذَكَرُوا أَشْيَاءَ، فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا الَّذِي تَخُوضُونَ فِيهِ؟، فَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ: هُمُ الَّذِينَ لَا يَرْقُونَ، وَلَا يَسْتَرْقُونَ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ، فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ، فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ: أَنْتَ مِنْهُمْ؟، ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ: سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ،
ہشیم نے کہا : ہمیں حصین بن عبد الرحمن نے خبر دی ، کہا کہ میں سعید بن جبیر کے پاس موجود تھا ، انہوں نے پوچھا : تم میں سے وہ ستارا کس نے دیکھا تھا جو کل رات ٹوٹا تھا ۔ میں نے کہا : میں نے ، پھر میں نے کہا کہ میں نماز میں نہیں تھا بلکہ مجھے ڈس لیا گیا تھا ( کسی موذی جانور نے ڈس لیا تھا ۔ ) انہوں نے پوچھا : پھر تم نے کیا کیا؟ میں نے کہا : میں نے دم کروایا ۔ انہوں نےکہا : تمہیں کس چیز نےاس پر آمادہ کیا ؟ میں نے جواب دیا : اس حدیث نے جو ہمیں شعبی نے سنائی ۔ انہوں نے پوچھا : شعبی نے تمہیں کون سی حدیث سنائی؟ میں نے کہا : انہوں ( شعبی ) نےہمیں بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت سنائی ، انہوں نے بتایا کہ نظر بد لگنے اور زہریلی چیز کےڈسنے کے علاوہ اور کسی چیز کے لیے جھاڑ پھونک نہیں ۔ تو سعید نے کہا : جس نے سنا ، اسے اختیار کیا تو اچھا کیا ۔ لیکن ہمیں عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ سے حدیث سنائی کہ آپ نے فرمایا : ’’میرے سامنے امتیں پیش کی گئیں ، میں نے ایک نبی کو دیکھا ، ان کے ساتھ ایک چھوٹا سا ( دس سے کم کا ) گروہ تھا ، کسی ( اور ) نبی کو دیکھا کہ اس کےساتھ ایک یا دو امتی تھے ، کوئی نبی ایسا بھی تھا کہ اس کے ساتھ کوئی امتی نہ تھا ، اچانک ایک بڑی جماعت میرے سامنے لائی گئی ، مجھے گمان ہوا کہ یہ میرے امتی ہیں ، اس پر مجھ سے کہا گیا کہ یہ موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم ہے لیکن آپ افق کی طرف دیکھیں ، میں نے دیکھا تو ( وہاں بھی ) ایک بہت بڑی جماعت تھی ، مجھے بتایا گیا : یہ آپ کی امت ہے ۔ اور ان کےساتھ ایسے ستر ہزار ( لوگ ) ہیں جو کسی حساب کتاب اور کسی عذاب کے بغیر جنت میں داخل ہو جائیں گے ۔ ‘ ‘ پھر آپ اٹھے اور ا پنے گھر کے اندر چلے گئے ، وہ ( صحابہ کرام رضی اللہ عنہ ) ان لوگوں کے بارے میں گفتگو میں مصروف ہو گئے ، جو بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں داخل ہوں گے ۔ ان میں سے بعض نے کہا : شاید وہ لوگ ہیں جنہیں رسول اللہ ﷺ کی صحبت کا شرف حاصل ہے ۔ بعض نے کہا : شاید یہ لوگ وہ ہوں گے جو اسلامی دور میں پیدا ہوئے اور ( ایک لمحہ بھی ) اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہیں کیا اور انہوں نے بعض دوسری باتوں کا بھی تذکرہ کیا پھر ( کچھ دیربعد ) رسول اللہ ﷺ ( گھر سے ) نکل کر ان کے پاس تشریف لائے اور پوچھا : ’’ تو کن باتوں میں لگے ہوئے ہو ؟ ‘ ‘ انہوں نے آپ کو وہ باتیں بتائیں ، اس پر آپ نے فرمایا : ’’وہ ایسے لوگ ہیں جو نہ دم کرتے ہیں ، نہ دم کرواتے ہیں ، نہ شگون لیتے ہیں اور وہ اپنے رب پر پوراتوکل کرتے ہیں ۔ ‘ ‘ اس پر عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئےاور عرض کی : اللہ سے دعا فرمائیے کہ وہ مجھے بھی ان لوگوں میں ( شامل ) کر دے تو آپ نے فرمایا : ’’ تو ان میں سے ہے ۔ ‘ ‘ پھر ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا : دعا فرمائیے ! اللہ مجھے ( بھی ) ان میں سے کردے تو آپ نے فرمایا : ’’عکاشہ اس ( فرمائش ) کے ذریعے سے تم سے سبقت لے گئے ۔ ‘ ‘