صحيح مسلم حدیث نمبر: 5236
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 2007
Sahih Muslim 5236
کتاب #36: مشروبات کا بیان
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَخْبَرَنَا، وقَالَ ابْنُ سَهْلٍ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ مُطَرِّفٍ أَبُو غَسَّانَ ، أَخْبَرَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ مِنَ الْعَرَبِ، فَأَمَرَ أَبَا أُسَيْدٍ أَنْ يُرْسِلَ إِلَيْهَا، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا فَقَدِمَتْ فَنَزَلَتْ فِي أُجُمِ بَنِي سَاعِدَةَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَاءَهَا، فَدَخَلَ عَلَيْهَا فَإِذَا امْرَأَةٌ مُنَكِّسَةٌ رَأْسَهَا، فَلَمَّا كَلَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ، قَالَ: " قَدْ أَعَذْتُكِ مِنِّي "، فَقَالُوا لَهَا: أَتَدْرِينَ مَنْ هَذَا؟، فَقَالَتْ: لَا، فَقَالُوا: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَكِ لِيَخْطُبَكِ، قَالَتْ: أَنَا كُنْتُ أَشْقَى مِنْ ذَلِكَ، قَالَ سَهْلٌ: فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ حَتَّى جَلَسَ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ، ثُمَّ قَالَ: " اسْقِنَا لِسَهْلٍ "، قَالَ: فَأَخْرَجْتُ لَهُمْ هَذَا الْقَدَحَ فَأَسْقَيْتُهُمْ فِيهِ، قَالَ أَبُو حَازِمٍ: فَأَخْرَجَ لَنَا سَهْلٌ ذَلِكَ الْقَدَحَ، فَشَرِبْنَا فِيهِ، قَالَ: ثُمَّ اسْتَوْهَبَهُ بَعْدَ ذَلِكَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، فَوَهَبَهُ لَهُ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرِ بْنِ إِسْحاَقَ، قَالَ: اسْقِنَا يَا سَهْلُ.
محمد بن سہل تیمی اور ابوبکر بن اسحاق نے کہا: ہمیں ابن ابی مریم نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابوغسان محمد بن مطرف نے بتایا کہ مجھے ابوحازم نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عرب کی ایک عورت کا ذکر کیا گیا۔ (اس کے والد نعمان بن ابی الجون کندی نے پیش کش کی) آپ نے ابواسید رضی اللہ عنہ سے کہا: کہ اس (عورت کو لانے کے لیے اس) کی طرف سواری وغیرہ بھیجیں۔ تو انہوں (حضرت ابواسید رضی اللہ عنہ) نے بھیج دی، وہ عورت آئی بنو ساعدہ کے قلعہ نما مکانات میں ٹھہری، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے روانہ ہو کر اس کے پاس تشریف لے گئے، جب آپ اس کے پاس گئے تو وہ عورت سر جھکائے ہوئے تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس سے بات کی تو وہ کہنے لگی: میں آپ سے اللہ کی پناہ میں آتی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں خود سے پناہ دے دی۔“ لوگوں نے اس سے کہا: کیا تم جانتی ہو یہ کون ہیں؟ اس نے کہا: نہیں، انہوں نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور تمہیں نکاح کا پیغام دینے تمہارے پاس آئے تھے۔ اس نے کہا: میں اس سے کم تر نصیب والی تھی۔ سہل رضی اللہ عنہ نے کہا: اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ خود اور آپ کے ساتھ بنو ساعدہ کے چھت والے چبوترے پر تشریف فرما ہوئے، پھر سہل نے کہا: پانی پلاؤ، کہا: میں نے ان کے لیے وہی پیالہ (نما برتن) نکالا اور اس میں آپ کو پلایا۔ ابوحازم نے کہا: سہل رضی اللہ عنہ نے ہمارے لیے بھی وہی پیالہ نکالا اور ہم نے بھی اس میں سے پیا، پھر عمر بن عبدالعزیز نے حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے وہ پیالہ بطور ہبہ مانگ لیا۔ حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے وہ پیالہ ان کو ہبہ کر دیا۔ ابوبکر بن اسحاق کی روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سہل! ہمیں (کچھ) پلاؤ۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5236]