صحيح مسلم حدیث نمبر: 5231
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 2005.01
📖 صحيح مسلم باب:36 حدیث نمبر : 105
Sahih Muslim 5231
کتاب #36: مشروبات کا بیان
9: باب إِبَاحَةِ النَّبِيذِ الَّذِي لَمْ يَشْتَدَّ وَلَمْ يَصِرْ مُسْكِرًا:
باب: جس نبیذ میں تیزی نہ آئی ہو اور نہ اس میں نشہ ہو وہ حلال ہے۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيَّ ، حَدَّثَنَا ثُمَامَةُ يَعْنِي ابْنَ حَزْنٍ الْقُشَيْرِيَّ ، قَالَ: لَقِيتُ عَائِشَةَ فَسَأَلْتُهَا عَن النَّبِيذِ، فَدَعَتْ عَائِشَةُ جَارِيَةً حَبَشِيَّةً، فَقَالَتْ: سَلْ هَذِهِ فَإِنَّهَا كَانَتْ تَنْبِذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ الْحَبَشِيَّةُ : " كُنْتُ أَنْبِذُ لَهُ فِي سِقَاءٍ مِنَ اللَّيْلِ وَأُوكِيهِ وَأُعَلِّقُهُ، فَإِذَا أَصْبَحَ شَرِبَ مِنْهُ ".
ہمیں ثمامہ یعنی ابن حزن قشیری نے حدیث بیان کی ، کہا : میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ملنے گیا تو میں نے ان سے نبیذ کے متعلق سوال کیا ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ایک حبشی کنیز کو آواز دی اور فرما یا : اس سے پوچھو یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نبیذ بنا یا کرتی تھی ۔ اس حبشی لڑکی نے کہا : میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے رات کو ایک مشک میں ( پھل ) ڈال دیتی تھی اور اس مشک کا منہ باندھ کر اس کو لٹکا دیتی تھی جب صبح ہو تی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے نوش فرما تے تھے ۔