صحيح مسلم حدیث نمبر: 511
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 209.02
📖 صحيح مسلم باب:1 حدیث نمبر : 417
Sahih Muslim 511
کتاب #1: ایمان کے احکام و مسائل
90: باب شَفَاعَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَبِي طَالِبٍ وَالتَّخْفِيفِ عَنْهُ بِسَبَبِهِ:
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش کی وجہ سے ابوطالب کے عذاب میں تخفیف ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ ، يَقُولُ: قُلْتُ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا طَالِبٍ كَانَ يَحُوطُكَ وَيَنْصُرُكَ، فَهَلْ نَفَعَهُ ذَلِكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَجَدْتُهُ فِي غَمَرَاتٍ مِنَ النَّارِ فَأَخْرَجْتُهُ إِلَى ضَحْضَاحٍ ".
سفیان ( بن عیینہ ) نے عبد الملک بن عمیر سے حدیث سنائی ، انہوں نے عبد اللہ بن حارث سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے کہ میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! ابو طالب ہر طرف سے آپ کی حفاظت کرتے تھے ، آپ کی مدد کرتے تھے اور آپ کی خاطر ( مخالفین پر ) غصہ کرتے تھے توکیا اس سے ان کو کچھ نفع ہوا؟ آپ نے فرمایا : ’’ہاں ، میں نے ان کو آگ کی اتھاہ گہرائیوں میں پایا تو ان کم گہری آگ تک نکال لایا ۔ ‘ ‘