صحيح مسلم حدیث نمبر: 511
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 209.1
Sahih Muslim 511
کتاب #1: ایمان کے احکام و مسائل
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ ، يَقُولُ: قُلْتُ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا طَالِبٍ كَانَ يَحُوطُكَ وَيَنْصُرُكَ، فَهَلْ نَفَعَهُ ذَلِكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَجَدْتُهُ فِي غَمَرَاتٍ مِنَ النَّارِ فَأَخْرَجْتُهُ إِلَى ضَحْضَاحٍ ".
سفیان (بن عیینہ) نے عبدالملک بن عمیر سے حدیث سنائی، انہوں نے عبداللہ بن حارث سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے پوچھا: ’اے اللہ کے رسول! ابوطالب ہر طرف سے آپ کی حفاظت کرتے تھے، آپ کی مدد کرتے تھے اور آپ کی خاطر (مخالفین پر) غصہ کرتے تھے، تو کیا اس سے ان کو کچھ نفع ہوا؟‘ آپ نے فرمایا: ”ہاں، میں نے انہیں آگ کی اتھاہ گہرائیوں میں پایا تو انہیں کم گہری آگ تک نکال لایا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 511]