صحيح مسلم حدیث نمبر: 51
📖 صحيح مسلم باب:0 حدیث نمبر : 51
Sahih Muslim 51
کتاب #1ق: مقدمہ
6ق: باب الْكَشْفِ عَنْ مَعَايِبِ رُوَاةِ الْحَدِيثِ وَنَقَلَةِ الأَخْبَارِ وَقَوْلِ الأَئِمَّةِ فِي ذَلِكَ
باب: حدیث کے راویوں کا عیب بیان کرنا درست ہے اور وہ غیبت میں داخل نہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، قَالَ: كُنَّا نَأْتِي أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيَّ، وَنَحْنُ غِلْمَةٌ أَيْفَاعٌ، فَكَانَ يَقُولُ لَنَا لَا تُجَالِسُوا الْقُصَّاصَ، غَيْرَ أَبِي الأَحْوَصِ: وَإِيَّاكُمْ وَشَقِيقًا، قَالَ: وَكَانَ شَقِيقٌ هَذَا، يَرَى رَأْيَ الْخَوَارِجِ، وَلَيْسَ بِأَبِي وَائِلٍ،
ہمیں عاصم نے حدیث بیان کی ، کہا : ہم بالکل نو عمر لڑکے تھے جو ابو عبد الرحمن سلمی کے پاس حاضر ہوتے تھے ، وہ ہم سے کہا کرتے تھے : ابو احوص کے سوا دوسرے قصہ گوؤں ( واعظوں ) کی مجالس میں مت بیٹھو اور شقیق سے بچ کر رہو ۔ شقیق خوارج کا نقطہ نظر رکھتا تھا ، یہ ابو وائل نہیں ( بلکہ شقیق ضبی ہے ۔)