صحيح مسلم حدیث نمبر: 499
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 202
📖 صحيح مسلم باب:1 حدیث نمبر : 405
Sahih Muslim 499
کتاب #1: ایمان کے احکام و مسائل
87: باب دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأُمَّتِهِ وَبُكَائِهِ شَفَقَةً عَلَيْهِمْ:
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دعا کرنا اپنی امت کے لئے اور رونا ان کے حال پر شفقت سے۔
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَلَا قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي إِبْرَاهِيمَ: رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي سورة إبراهيم آية 36 الآيَةَ، وَقَالَ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَام: إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ سورة المائدة آية 118، فَرَفَعَ يَدَيْهِ، وَقَالَ: اللَّهُمَّ، أُمَّتِي، أُمَّتِي، وَبَكَى، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَا جِبْرِيلُ، اذْهَبْ إِلَى مُحَمَّدٍ وَرَبُّكَ أَعْلَمُ، فَسَلْهُ مَا يُبْكِيكَ؟ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَسَأَلَهُ، فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا قَالَ، وَهُوَ أَعْلَمُ، فَقَالَ اللَّهُ: يَا جِبْرِيلُ، اذْهَبْ إِلَى مُحَمَّدٍ، فَقُلْ: إِنَّا سَنُرْضِيكَ فِي أُمَّتِكَ وَلَا نَسُوؤُكَ ".
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سےروایت کہ نبیﷺ نےابراہیم علیہ السلام کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے فرمان : ’’پروردگار ، ان بتوں نے بہتوں کو گمراہی میں ڈالا ہے ( ممکن ہے کہ میری اولاد کو بھی یہ گمراہ کر دیں ، لہٰذا ان میں سے ) جو میرے طریقے پر چلے وہ میرا ہے اور جو میرے خلاف طریقہ اختیار کرے تو یقیناً تو درگزر کرنے والا مہربان ہے ۔ ‘ ‘ اور عیسیٰ علیہ السلام کے قول ’’اگر تو انہیں عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں معاف فرما دے تو بلاشبہ توہی غالب حکمت والا ہے ‘ ‘ کی تلاوت فرمائی اور اپنے ہاتھ اٹھ کر فرمایا : ’’ اے اللہ ! میری امت ، میری امت ‘ ‘ اور ( بے اختیار ) روپڑے ۔ اللہ تعالیٰ نےحکم دیا : اے جبرئیل !محمدﷺ کے پاس جاؤ ، جبکہ تمہارا رب زیادہ جاننےوالا ہے ، ان سے پوچھو کہ آپ کو کیا بات رلا رہی ہے ؟ جبریل علیہ السلام آپ کےپاس آئے اور ( وجہ ) پوچھی تو رسو ل ا للہﷺ نے جو بات کہی تھی ان کو بتائی ، جبکہ وہ ( اللہ اس بات سے ) زیادہ اچھی طرح آگاہ ہے ، اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے جبریل! محمدﷺ کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم آپ کی امت کے بارے میں آپ کو راضی کریں گے اور ہم آپ کو تکلیف نہ ہونے دیں گے ۔