صحيح مسلم حدیث نمبر: 4915
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 1901
📖 صحيح مسلم باب:33 حدیث نمبر : 210
Sahih Muslim 4915
کتاب #33: امور حکومت کا بیان
41: باب ثُبُوتِ الْجَنَّةِ لِلشَّهِيدِ:
باب: شہید کے لیے جنت کا ثابت ہونا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ، قَالُوا: حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَال: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُسَيْسَةَ عَيْنًا يَنْظُرُ مَا صَنَعَتْ عِيرُ أَبِي سُفْيَانَ، فَجَاءَ وَمَا فِي الْبَيْتِ أَحَدٌ غَيْرِي وَغَيْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا أَدْرِي مَا اسْتَثْنَى بَعْضَ نِسَائِهِ، قَالَ: فَحَدَّثَهُ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَكَلَّمَ فَقَالَ: " إِنَّ لَنَا طَلِبَةً فَمَنْ كَانَ ظَهْرُهُ حَاضِرًا، فَلْيَرْكَبْ مَعَنَا "، فَجَعَلَ رِجَالٌ يَسْتَأْذِنُونَهُ فِي ظُهْرَانِهِمْ فِي عُلْ وَالْمَدِينَةِ، فَقَالَ: " لَا، إِلَّا مَنْ كَانَ ظَهْرُهُ حَاضِرًا "، فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَتَّى سَبَقُوا الْمُشْرِكِينَ إِلَى بَدْرٍ، وَجَاءَ الْمُشْرِكُونَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُقَدِّمَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ إِلَى شَيْءٍ حَتَّى أَكُونَ أَنَا دُونَهُ "، فَدَنَا الْمُشْرِكُونَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُومُوا إِلَى جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَوَاتُ وَالْأَرْضُ "، قَالَ: يَقُولُ عُمَيْرُ بْنُ الْحُمَامِ الْأَنْصَارِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، جَنَّةٌ عَرْضُهَا السَّمَوَاتُ وَالْأَرْضُ؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: بَخٍ بَخٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا يَحْمِلُكَ عَلَى قَوْلِكَ بَخٍ بَخٍ؟، قَالَ: لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا رَجَاءَةَ أَنْ أَكُونَ مِنْ أَهْلِهَا، قَالَ: " فَإِنَّكَ مِنْ أَهْلِهَا "، فَأَخْرَجَ تَمَرَاتٍ مِنْ قَرَنِهِ فَجَعَلَ يَأْكُلُ مِنْهُنَّ، ثُمَّ قَالَ: لَئِنْ أَنَا حَيِيتُ حَتَّى آكُلَ تَمَرَاتِي هَذِهِ إِنَّهَا لَحَيَاةٌ طَوِيلَةٌ، قَالَ: فَرَمَى بِمَا كَانَ مَعَهُ مِنَ التَّمْرِ ثُمَّ قَاتَلَهُمْ حَتَّى قُتِلَ.
ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان کی خبر لانے کے لئے بُسیسہ ( خزرجی انصاری ) رضی اللہ عنہ کو جاسوس بنا کر بھیجا کہ دیکھے ابوسفیان کے ( تجارتی ) قافلے کی کیا صورتِ حال ہے ۔ جس وقت وہ واپس آیا تو گھر میں میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا اور کوئی نہیں تھا ، ۔ ۔ ( ثابت نے ) کہا : مجھے انس رضی اللہ عنہ کا کسی ام المومنین کو مستثنیٰ کرنا معلوم نہیں ۔ ۔ کہا : اس نے آ کر آپ کو ساری بات بتائی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا : " ہمیں کچھ ( کرنا ) مطلوب ہے ، سو جس کے پاس سواری موجود ہو وہ ہمارے ساتھ سوار ہو کر چلے ۔ " کچھ لوگ بالائی مدینہ میں ( موجود ) اپنی سواریاں لانے کی اجازت طلب کرنے لگے ۔ آپ نے فرمایا : " نہیں ، صرف وہی لوگ ( ساتھ چلیں ) جن کی سواریاں یہیں موجود ہوں ۔ " پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب چل پڑے اور مشرکین سے پہلے " بدر " پہنچ گئے ، مشرکین بھی آ پہنچے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی شخص ، جب تک میں اس کے پیچھے نہ ہوں ، کسی چیز پر پیش قدمی نہ کرے ۔ " مشرکین قریب آ گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس جنت کی طرف بڑھ جس کی چوڑائی آسمان اور زمین ہیں ۔ " کہا : ( یہ سن کر ) حضرت عمیر بن حمام انصاری رضی اللہ عنہ کہنے لگے : یا رسول اللہ! جنت جس کا عرض آسمان اور زمین ہے؟ آپ نے فرمایا : " ہاں ۔ " اس نے کہا : واہ واہ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم نے یہ واہ واہ کس وجہ سے کہا؟ " اس نے کہا : اللہ کے رسول! اس امید کے سوا اور کسی وجہ سے نہیں ( کہا ) کہ میں ( بھی ) جنت والوں میں سے ہو جاؤں ، آپ نے فرمایا : " بلاشبہ تم اہل جنت میں سے ہو ۔ " حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے اپنے ترکش سے کچھ کھجوریں نکال کر کھانی شروع کیں ، پھر کہنے لگے : اگر میں اپنی ان کھجوروں کو کھا لینے تک زندہ رہا تو پھر یہ بڑی لمبی زندگی ہو گی ( یعنی جنت ملنے میں دیر ہو جائے گی ) ، پھر انہوں نے ، جو کھجوریں ان کے پاس تھیں ، پھینکیں اور لڑائی شروع کر دی یہاں تک کہ شہید ہو گئے ۔