صحيح مسلم حدیث نمبر: 473
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 191.05
📖 صحيح مسلم باب:1 حدیث نمبر : 379
Sahih Muslim 473
کتاب #1: ایمان کے احکام و مسائل
84: باب أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً فِيهَا:
باب: جنتوں میں سب سے کم تر درجہ والے کا بیان۔
وحَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ الْفَقِيرُ ، قَالَ: " كُنْتُ قَدْ شَغَفَنِي رَأْيٌ مِنْ رَأْيِ الْخَوَارِجِ، فَخَرَجْنَا فِي عِصَابَةٍ ذَوِي عَدَدٍ، نُرِيدُ أَنْ نَحُجَّ، ثُمَّ نَخْرُجَ عَلَى النَّاسِ، قَالَ: فَمَرَرْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ، فَإِذَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ الْقَوْمَ، جَالِسٌ إِلَى سَارِيَةٍ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَإِذَا هُوَ قَدْ ذَكَرَ الْجَهَنَّمِيِّينَ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: يَا صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ، مَا هَذَا الَّذِي تُحَدِّثُونَ! وَاللَّهُ يَقُولُ: إِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ سورة آل عمران آية 192، وَ كُلَّمَا أَرَادُوا أَنْ يَخْرُجُوا مِنْهَا أُعِيدُوا فِيهَا سورة السجدة آية 20، فَمَا هَذَا الَّذِي تَقُولُونَ؟ قَالَ: فَقَالَ: أَتَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَهَلْ سَمِعْتَ بِمَقَامِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يَعْنِي الَّذِي يَبْعَثُهُ اللَّهُ فِيهِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنَّهُ مَقَامُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَحْمُودُ الَّذِي يُخْرِجُ اللَّهُ بِهِ مَنْ يُخْرِجُ، قَالَ: ثُمَّ نَعَتَ وَضْعَ الصِّرَاطِ، وَمَرَّ النَّاسِ عَلَيْهِ، قَالَ: وَأَخَافُ أَنْ لَا أَكُونَ أَحْفَظُ ذَاكَ، قَالَ: غَيْرَ أَنَّهُ قَدْ زَعَمَ، أَنَّ قَوْمًا يَخْرُجُونَ مِنَ النَّارِ، بَعْدَ أَنْ يَكُونُوا فِيهَا، قَالَ: يَعْنِي فَيَخْرُجُونَ كَأَنَّهُمْ عِيدَانُ السَّمَاسِمِ، قَالَ: فَيَدْخُلُونَ نَهَرًا مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ، فَيَغْتَسِلُونَ فِيهِ فَيَخْرُجُونَ كَأَنَّهُمُ الْقَرَاطِيسُ " فَرَجَعْنَا، قُلْنَا: وَيْحَكُمْ أَتُرَوْنَ الشَّيْخَ يَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَجَعْنَا، فَلَا وَاللَّهِ مَا خَرَجَ مِنَّا غَيْرُ رَجُلٍ وَاحِدٍ، أَوْ كَمَا قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ.
م ، یعنی محمد بن ابی ایوب نے کہا : مجھے یزید الفقیر نےحدیث سنائی ، انہوں نے کہا : کہ خارجیوں کے نظریات میں سے ایک بات میرے دل میں گھر کر گئی تھی ۔ ہم ایک جماعت میں نکلے جس کی اچھی خاصی تعداد تھی ۔ ہمارا ارادہ تھا کہ حج کریں اور پھر لوگوں کو خلاف خروج کریں ( جنگ کریں ۔ ) ہم مدینہ سے گزرے تو ہم نےدیکھا کہ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ ( ایک ستون کے پاس بیٹھے ) لوگوں کو رسول اللہﷺ کی احادیث سنا رہے ہیں ، انہوں نے اچانک «الجهميين» ( جہنم سے نکل کر جنت میں پہنچنے والے لوگوں ) کا تذکرہ کیا تو میں ان سے پوچھا : اے رسول اللہ کے ساتھی! یہ آپ کیا بیان کر رہے ہیں ؟ حالانکہ اللہ فرماتا ہے : ’’بے شک جس کو تو نے آگ میں داخل کر دیا اس کو رسوا کر دیا ۔ ‘ ‘ اور : ’’وہ جب بھی اس سے نکلنے کا ارادہ کریں گے ، اسی میں لوٹا دیے جائیں گے ۔ ‘ ‘ تویہ کیا بات ہے جو آپ کہہ رہے ہیں ؟ ( یزیدنے ) کہا : انہوں نے ( جواب میں ) کہا : کیا تم قرآن پڑھتے ہو؟ میں نے عرض کی : ہاں!انہوں نے کہا : کیا تم نے محمدﷺ کے مقام کے بارے میں سنا ہے ، یعنی وہ مقام جس پر قیامت کے دن آپ کومبعوث کیا جائے گا؟ میں نے کہا : ہاں! انہوں نے کہا : بے شک و ہ محمدﷺ کا مقام محمود ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جنہیں ( جہنم سے ) نکالنا ہو گا نکالے گا ، پھر انہو ں نے ( جہنم پر ) پل رکھے جانے اور اس پر سے لوگوں کے گزرنے کا منظر بیان کیا ۔ ( یزید نے ) کہا : مجھے ڈر ہے کہ میں اس کو پوری طرح یاد نہیں رکھ سکا ہوں ۔ سوائے اس کے کہ انہوں نے بتایا : کچھ لوگ جہنم میں چلے جانے کے بعد اس سے نکلیں گے ، یعنی انہوں نےکہا : وہ اس طرح نکلیں گے جیسے وہ ’’تلوں ‘ ‘ ( کےپودوں ) کی لکڑیاں ہوں ، وہ جنت کی نہروں میں سے ایک نہر میں داخل ہو ں گے اور اس میں نہائیں گے ، پھر اس میں سے ( کورے ) کاغذوں کی طرح ( ہوکر ) نکلیں گے ، پھر ( یہ حدیث سن کر ) ہم واپس آئے اورہم نے کہا : تم پر افسوس ! کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ بوڑھا ( صحابی حضرت جابر رضی اللہ عنہ ) رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ باندھ رہا ہے ؟ اور ہم نے ( سابقہ رائے سے ) رجوع کر لیا ۔ اللہ کی قسم ! ہم میں سے ایک آدمی کے سوا کسی نے خروج نہ کیا ، یا جس طرح ( کے الفاظ میں ) ابو نعیم نے کہا ۔