صحيح مسلم حدیث نمبر: 442
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 177.04
📖 صحيح مسلم باب:1 حدیث نمبر : 347
Sahih Muslim 442
کتاب #1: ایمان کے احکام و مسائل
77: باب مَعْنَى قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى} وَهَلْ رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبَّهُ لَيْلَةَ الإِسْرَاءِ:
باب: اس باب میں یہ بیان ہے کہ «وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى» سے کیا مراد ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق تعالیٰ جل جلالہ کو معراج کی رات میں دیکھا تھا یا نہیں۔
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، عَنِ ابْنِ أَشْوَعَ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ : فَأَيْنَ قَوْلُهُ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى {8} فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى {9} فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى {10} سورة النجم آية 8-10؟ قَالَتْ: " إِنَّمَا ذَاكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ، كَانَ يَأْتِيهِ فِي صُورَةِ الرِّجَالِ، وَإِنَّهُ أَتَاهُ فِي هَذِهِ الْمَرَّةِ فِي صُورَتِهِ، الَّتِي هِيَ صُورَتُهُ، فَسَدَّ أُفُقَ السَّمَاءِ ".
(سعید بن عمرو ) ابن اشوع نے عامر ( شعبی ) سے ، انہوں نے مسروق سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نےحضرت عائشہ ؓ سے عرض کی : اللہ تعالیٰ کے اس قول کا کیا مطلب ہو گا : ’’ پھر وہ قریب ہوا اور اتر آیا اور د وکمانوں کے برابر یا اس سے کم فاصلے پر تھا ، پھر اس نے اس کے بندے کی طرف وحی کی جو وحی کی ؟ ‘ ‘ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : وہ تو جبریل تھے ، وہ ہمیشہ آپ کے پاس انسانوں کی شکل میں آتے تھے اور اس دفعہ وہ آپ کے پاس اپنی اصل شکل میں آئے اور انہوں نے آسمان کے افق کو بھر دیا ۔