صحيح مسلم حدیث نمبر: 4394
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 1682.1
Sahih Muslim 4394
کتاب #28: قتل کی ذمہ داری کے تعین کے لیے اجتماعی قسموں، لوٹ مار کرنے والوں (کی سزا)، قصاص اور دیت کے مسائل
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ " أَنَّ امْرَأَةً قَتَلَتْ ضَرَّتَهَا بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ، فَأُتِيَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَضَى عَلَى عَاقِلَتِهَا بِالدِّيَةِ وَكَانَتْ حَامِلًا فَقَضَى فِي الْجَنِينِ بِغُرَّةٍ، فَقَالَ بَعْضُ عَصَبَتِهَا: أَنَدِي مَنْ لَا طَعِمَ وَلَا شَرِبَ وَلَا صَاحَ فَاسْتَهَلَّ وَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ، قَالَ: فَقَالَ: سَجْعٌ كَسَجْعِ الْأَعْرَابِ "،
مفضل نے منصور سے، انہوں نے ابراہیم سے، انہوں نے عبید بن نضیلہ سے اور انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک عورت نے اپنی سوتن کو خیمے کی لکڑی سے قتل کر دیا، اس (معاملے) کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ نے اس عورت کے عاقلہ پر دیت عائد ہونے کا فیصلہ فرمایا اور چونکہ وہ حاملہ (بھی) تھی تو آپ نے پیٹ کے بچے کے بدلے میں ایک غلام (بطور تاوان دیے جانے) کا فیصلہ کیا، اس پر اس کے عصبہ (جدی مرد رشتہ داروں) میں سے کسی نے کہا: کیا ہم اس کی دیت دیں جس نے نہ کھایا، نہ پیا، نہ چیخا، نہ چلایا، اس طرح کا (خون) تو رائیگاں ہوتا ہے، کہا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا بدوؤں کی سجع جیسی سجع ہے؟“ [صحيح مسلم/حدیث: 4394]