صحيح مسلم حدیث نمبر: 4361
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 1672.01
📖 صحيح مسلم باب:28 حدیث نمبر : 20
Sahih Muslim 4361
کتاب #28: قتل کی ذمہ داری کے تعین کے لیے اجتماعی قسموں، لوٹ مار کرنے والوں (کی سزا)، قصاص اور دیت کے مسائل
3: باب ثُبُوتِ الْقِصَاصِ فِي الْقَتْلِ بِالْحَجَرِ وَغَيْرِهِ مِنَ الْمُحَدَّدَاتِ وَالْمُثَقَّلاَتِ وَقَتْلِ الرَّجُلِ بِالْمَرْأَةِ:
باب: پتھر وغیرہ بھاری چیز سے قتل کرنے میں قصاص لازم ہو گا اسی طرح مرد کو عورت کے بدلے قتل کریں گے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ يَهُودِيًّا قَتَلَ جَارِيَةً عَلَى أَوْضَاحٍ لَهَا فَقَتَلَهَا بِحَجَرٍ، قَالَ: فَجِيءَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِهَا رَمَقٌ، فَقَالَ لَهَا: أَقَتَلَكِ فُلَانٌ؟ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لَا، ثُمَّ قَالَ لَهَا: الثَّانِيَةَ، فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لَا، ثُمَّ سَأَلَهَا الثَّالِثَةَ، فَقَالَتْ: نَعَمْ وَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا، فَقَتَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ حَجَرَيْنِ "،
بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے ہشام بن زید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کو اس کے زیورات ( حاصل کرنے ) کی خاطر مار ڈالا ، اس نے اسے پتھر سے قتل کیا ، کہا : وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی گئی اور اس میں زندگی کی رمق موجود تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ایک یہودی کا نام لیتے ہوئے ) اس سے پوچھا : " کیا تجھے فلاں نے مارا ہے؟ " اس نے اپنے سر سے نہیں کا اشارہ کیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دوسری بار ( دوسرا نام لیتے ہوئے ) پوچھا : تو اس نے اپنے سر سے نہیں کا اشارہ کیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ( تیسرا نام لیتے ہوئے ) تیسری بات پوچھا : تو اس نے کہا : ہاں ، اور اپنے سر سے اشارہ کیا ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ( ملوث یہودی کو اس کے قرار کے بعد ، حدیث : 4365 ) دو پتھروں کے درمیان قتل کروا دیا ۔