صحيح مسلم حدیث نمبر: 4355
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 1671.03
📖 صحيح مسلم باب:28 حدیث نمبر : 14
Sahih Muslim 4355
کتاب #28: قتل کی ذمہ داری کے تعین کے لیے اجتماعی قسموں، لوٹ مار کرنے والوں (کی سزا)، قصاص اور دیت کے مسائل
2: باب حُكْمِ الْمُحَارِبِينَ وَالْمُرْتَدِّينَ:
باب: لڑنے والوں کا اور اسلام سے پھر جانے والوں کا حکم۔
وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ مَوْلَى أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو قِلَابَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمٌ مِنْ عُكْلٍ أَوْ عُرَيْنَةَ، فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ، فَأَمَرَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بِلِقَاحٍ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا "، بِمَعْنَى حَدِيثِ حَجَّاجِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ: " وَسُمِرَتْ أَعْيُنُهُمْ وَأُلْقُوا فِي الْحَرَّةِ يَسْتَسْقُونَ فَلَا يُسْقَوْنَ "،
ایوب نے ابوقلابہ کے آزاد کردہ غلام ابو رجاء سے روایت کی ، کہا : ابوقلابہ نے کہا : ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : عُکل یا عرینہ کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مدینہ میں انہیں استسقاء کی بیماری لاحق ہو گئی ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دودھ والی اونٹنیوں کا حکم دیا ( کہ ان کے لیے خاص کر دی جائیں ) اور ان سے کہا کہ ان کے پیشاب اور دودھ پئیں ۔ ۔ ۔ آگے حجاج بن ابی عثمان کی حدیث کے ہم معنی ہے ۔ اور کہا : ان کی آنکھیں گرم سلاخوں سے پھوڑ دی گئیں اور انہیں سیاہ پتھروں والی زمین ( حرہ ) میں پھینک دیا گیا ، وہ پانی مانگتے تھے تو انہیں نہیں پلایا جاتا تھا