صحيح مسلم حدیث نمبر: 4224
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 1632.01
📖 صحيح مسلم باب:25 حدیث نمبر : 21
Sahih Muslim 4224
کتاب #25: وصیت کے احکام و مسائل
5: باب الْوَقْفِ:
باب: وقف کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " أَصَابَ عُمَرُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْمِرُهُ فِيهَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَصَبْتُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ لَمْ أُصِبْ مَالًا قَطُّ هُوَ أَنْفَسُ عِنْدِي مِنْهُ، فَمَا تَأْمُرُنِي بِهِ؟، قَالَ: إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا، قَالَ: فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ أَنَّهُ لَا يُبَاعُ أَصْلُهَا وَلَا يُبْتَاعُ، وَلَا يُورَثُ، وَلَا يُوهَبُ، قَالَ: فَتَصَدَّقَ عُمَرُ فِي الْفُقَرَاءِ، وَفِي الْقُرْبَى، وَفِي الرِّقَابِ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَابْنِ السَّبِيلِ، وَالضَّيْفِ لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا، أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ، قَالَ: فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ مُحَمَّدًا، فَلَمَّا بَلَغْتُ هَذَا الْمَكَانَ غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ، قَالَ مُحَمَّدٌ: غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًا، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: وَأَنْبَأَنِي مَنْ قَرَأَ هَذَا الْكِتَابَ أَنَّ فِيهِ غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًا "،
سُلیم بن اخضر نے ہمیں ابن عون سے خبر دی ، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں زمین ملی ، وہ اس کے بارے میں مشورہ کرنے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : اے اللہ کے رسول! مجھے خیبر میں زمین ملی ہے ، مجھے کبھی کوئی ایسا مال نہیں ملا جو میرے نزدیک اس سے زیادہ عمدہ ہو ، تو آپ مجھے اس کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا : "" اگر تم چاہو تو اس کی اصل وقف کر دو اور اس ( کی آمدنی ) سے صدقہ کرو ۔ "" کہا : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے ( اس شرط کے ساتھ ) صدقہ کیا کہ اس کی اصل نہ بیچی جائے ، نہ اسے خریدا جائے ، نہ ورثے میں حاصل کی جائے اور نہ ہبہ کی جائے ۔ کہا : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس ( کی آمدنی ) کو فقراء ، اقرباء ، غلاموں ، فی سبیل اللہ ، مسافروں اور مہمانوں میں صدقہ کیا اور ( قرار دیا کہ ) اس شخص پر کوئی گناہ نہیں جو اس کا نگران ہے کہ وہ اس میں تمول حاصل کیے ( مالدار بنے ) بغیر معروف طریقے سے اس میں سے خود کھائے یا کسی دوست کو کھلائے ۔ ( ابن عون نے ) کہا : میں نے یہ حدیث محمد ( بن سیرین ) کو بیان کی ، جب میں اس جگہ "" اس میں تمول حاصل کیے بغیر "" پر پہنچا تو محمد نے ( ان الفاظ کے بجائے ) "" مال جمع کیے بغیر کے الفاظ کہے ۔ ابن عون نے کہا : مجھے اس شخص نے خبر دی جس نے اس کتاب ( لکھے ہوئے وصیت نامے ) کو پڑھا تھا کہ اس میں "" مال جمع کیے بغیر "" کے الفاظ ہیں