صحيح مسلم حدیث نمبر: 4212
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 1628.04
📖 صحيح مسلم باب:25 حدیث نمبر : 9
Sahih Muslim 4212
کتاب #25: وصیت کے احکام و مسائل
2: باب الْوَصِيَّةِ بِالثُّلُثِ:
باب: ایک تہائی مال کی وصیت کے بارے میں۔
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنِي مُصْعَبُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: مَرِضْتُ، فَأَرْسَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: " دَعْنِي أَقْسِمْ مَالِي حَيْثُ شِئْتُ، فَأَبَى، قُلْتُ: فَالنِّصْفُ، فَأَبَى، قُلْتُ: فَالثُّلُثُ، قَالَ: فَسَكَتَ بَعْدَ الثُّلُثِ، قَالَ: فَكَانَ بَعْدُ الثُّلُثُ جَائِزًا "،
زہیر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سماک بن حرب نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے مصعب بن سعد ( بن ابی وقاص ) نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں بیمار ہوا تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیغام بھیجا ، میں نے عرض کی : مجھے اجازت دیجیے کہ میں اپنا مال جہاں چاہوں تقسیم کر دوں ۔ آپ نے انکار فرمایا ، میں نےعرض کی : آدھا مال ( تقسیم کر دوں؟ ) آپ نے انکار فرمایا ، میں نے عرض کی : ایک تہائی؟ کہا : ( میرے ) ایک تہائی ( کہنے ) کے بعد آپ خاموش ہو گئے ۔ ( ایک تہائی کی وصیت سے آپ نے منع نہ فرمایا مگر اس کے بارے میں بھی یہ فرمایا : ایک تہائی بھی بہت ہے ، حدیث : 4215 ، 4214 ) کہا : اس کے بعد ایک تہائی ( کی وصیت ) جائز ٹھہری ۔