صحيح مسلم حدیث نمبر: 4207
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 1627.04
📖 صحيح مسلم باب:25 حدیث نمبر : 4
Sahih Muslim 4207
کتاب #25: وصیت کے احکام و مسائل
1: باب وَصيَّةُ الرَّجُلِ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ
باب: وصیت کے لکھے ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ يَبِيتُ ثَلَاثَ لَيَالٍ، إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ عِنْدَهُ مَكْتُوبَةٌ "، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: مَا مَرَّتْ عَلَيَّ لَيْلَةٌ مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ ذَلِكَ إِلَّا وَعِنْدِي وَصِيَّتِي،
عمرو بن حارث نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں نے سالم سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ نے فرمایا : کسی مسلمان آدمی کے لیے ، جس کے پاس کوئی ( ایسی ) چیز ہو جس میں وہ وصیت کرے ، یہ جائز نہیں کہ وہ تین راتیں ( بھی ) گزارے مگر اس طرح کہ اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی ہو ۔ "" حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سنا ہے مجھ پر ایک رات بھی نہیں گزری مگر میری وصیت میرےپاس موجود تھی