صحيح مسلم حدیث نمبر: 4182
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 1623.06
📖 صحيح مسلم باب:24 حدیث نمبر : 20
Sahih Muslim 4182
کتاب #24: عطیہ کی گئی چیزوں کا بیان
3: باب كَرَاهَةِ تَفْضِيلِ بَعْضِ الأَوْلاَدِ فِي الْهِبَةِ:
باب: بعض لڑکوں کو کم دینا اور بعض کو زیادہ دینا مکروہ ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ : " أَنَّ أُمَّهُ بِنْتَ رَوَاحَةَ سَأَلَتْ أَبَاهُ بَعْضَ الْمَوْهِبَةِ مِنْ مَالِهِ لِابْنِهَا، فَالْتَوَى بِهَا سَنَةً ثُمَّ بَدَا لَهُ، فَقَالَتْ: لَا أَرْضَى حَتَّى تُشْهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَا وَهَبْتَ لِابْنِي، فَأَخَذَ أَبِي بِيَدِي وَأَنَا يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمَّ هَذَا بِنْتَ رَوَاحَةَ أَعْجَبَهَا أَنْ أُشْهِدَكَ عَلَى الَّذِي وَهَبْتُ لِابْنِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا بَشِيرُ أَلَكَ وَلَدٌ سِوَى هَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ: أَكُلَّهُمْ وَهَبْتَ لَهُ مِثْلَ هَذَا؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَلَا تُشْهِدْنِي إِذًا فَإِنِّي لَا أَشْهَدُ عَلَى جَوْرٍ ".
ابوحیان تیمی نے ہمیں شعبی سے حدیث بیان کی : مجھے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ ان کی والدہ ، ( عمرہ ) بنت رواحہ نے ان کے والد سے ، ان کے مال میں سے ، اپنے بیٹے کے لیے ( باغ ، زمین وغیرہ ) کچھ ہبہ کیے جانے کا مطالبہ کیا ، انہوں نے اسے ایک سال تک التوا میں رکھا ، پھر انہیں ( اس کا ) خیال آیا تو انہوں ( والدہ ) نے کہا : میں راضی نہیں ہوں گی یہاں تک کہ تم اس پر ، جو تم نے میرے بیٹے کے لیے ہبہ کیا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنا لو ۔ اس پر میرے والد نے میرا ہاتھ تھاما ، میں ان دنوں بچہ تھا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : اے اللہ کے رسول! اس کی والدہ بنت رواحہ کو یہ پسند ہے کہ میں آپ کو اس چیز پر گواہ بناؤں جو میں نے اس کے بیٹے کو دی ہے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : بشیر! کیا اس کے سوا بھی تمہارے بچے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں! آپ نے پوچھا : کیا ان سب میں سے ہر ایک کو تم نے اسی طرح ہبہ کیا ہے؟ " انہوں نے جواب دیا : نہیںآپ نے فرمایا : پھر مجھے گواہ نہ بناؤ ، میں ظلم پر گواہ نہیں بنتا