صحيح مسلم حدیث نمبر: 4101
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 715.16
📖 صحيح مسلم باب:22 حدیث نمبر : 140
Sahih Muslim 4101
کتاب #22: سیرابی اور نگہداشت کے عوض پھل وغیرہ میں حصہ داری اور زمین دے کر بٹائی پر کاشت کرانا
21: باب بَيْعِ الْبَعِيرِ وَاسْتِثْنَاءِ رُكُوبِهِ:
باب: اونٹ کا بیچنا اور سواری کی شرط کر لینا۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاعْتَلَّ جَمَلِي وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ وَفِيهِ، ثُمَّ قَالَ: " لِي بِعْنِي جَمَلَكَ هَذَا، قَالَ: قُلْتُ: لَا بَلْ هُوَ لَكَ، قَالَ: لَا بَلْ بِعْنِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: لَا بَلْ هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: لَا بَلْ بِعْنِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنَّ لِرَجُلٍ عَلَيَّ أُوقِيَّةَ ذَهَبٍ فَهُوَ لَكَ بِهَا، قَالَ: قَدْ أَخَذْتُهُ، فَتَبَلَّغْ عَلَيْهِ إِلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبِلَالٍ: " أَعْطِهِ أُوقِيَّةً مِنْ ذَهَبٍ وَزِدْهُ " قَالَ: فَأَعْطَانِي أُوقِيَّةً مِنْ ذَهَبٍ وَزَادَنِي قِيرَاطًا، قَالَ: فَقُلْتُ: لَا تُفَارِقُنِي زِيَادَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَكَانَ فِي كِيسٍ لِي فَأَخَذَهُ أَهْلُ الشَّامِ يَوْمَ الْحَرَّةِ،
سالم بن ابی جعد نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں مکہ ( کی جانب ) سے مدینہ آئے ، تو میرا اونٹ بیمار ہو گیا ۔ ۔ ۔ اور انہوں نے ( ان سے ) مکمل قصے سمیت حدیث بیان کی ، اس میں ہے : پھر آپ نے مجھ سے فرمایا : " مجھے اپنا یہ اونٹ فروخت کر دو ۔ " میں نے کہا : نہیں ، بلکہ وہ ( ویسے ہی ) آپ ہی کا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " نہیں ، بلکہ وہ مجھے فروخت کر دو ۔ " میں نے کہا : نہیں ، اے اللہ کے رسول! وہ آپ ہی کا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " نہیں ، بلکہ اسے میرے یاتھ فروخت کر دو ۔ " میں نے کہا : ایک آدمی کا میرے ذمے سونے کا ایک اوقیہ ( تقریبا 29 گرام ) ہے ، اس کے عوض یہ آپ کا ہوا ۔ آپ نے فرمایا : " میں نے لے لیا ، تم اس پر مدینہ تک پہنچ جاؤ ۔ " کہا : جب میں مدینہ پہنچا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا : " انہیں ایک اوقیہ سونا اور کچھ زیادہ بھی دو ۔ " کہا : انہوں نے مجھے ایک اوقیہ سونا دیا اور ایک قیراط زائد دیا ۔ کہا : میں نے ( دل میں ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ زائد عطیہ مجھ سے کبھی الگ نہ ہو گا ۔ کہا : تو وہ میری تھیلی میں رہا حتی کہ حرہ کی جنگ کے دن اہل شام نے اسے ( مجھ سے ) چھین لیا ۔