صحيح مسلم حدیث نمبر: 4021
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 1573.01
📖 صحيح مسلم باب:22 حدیث نمبر : 60
Sahih Muslim 4021
کتاب #22: سیرابی اور نگہداشت کے عوض پھل وغیرہ میں حصہ داری اور زمین دے کر بٹائی پر کاشت کرانا
10: باب الأَمْرِ بِقَتْلِ الْكِلاَبِ وَبَيَانِ نَسْخِهِ وَبَيَانِ تَحْرِيمِ اقْتِنَائِهَا إِلاَّ لِصَيْدٍ أَوْ زَرْعٍ أَوْ مَاشِيَةٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ.
باب: کتوں کے قتل کا حکم پھر اس حکم کا منسوخ ہونا اور اس امر کا بیان کہ کتے کا پالنا حرام ہے مگر شکار یا کھیتی یا جانوروں کی حفاظت کے لیے یا ایسے ہی اور کسی کام کے واسطے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، سَمِعَ مُطَرِّفَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ الْمُغَفَّلِ ، قَالَ: " أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ "، ثُمَّ قَالَ: " مَا بَالُهُمْ وَبَالُ الْكِلَابِ "، ثُمَّ " رَخَّصَ فِي كَلْبِ الصَّيْدِ، وَكَلْبِ الْغَنَمِ ".
معاذ عنبری نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے ابوتیاح سے حدیث سنائی ، انہوں نے مطرف بن عبداللہ سے سنا اور انہوں نے حضرت ( عبداللہ ) بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو مارنے کا حکم دیا ، پھر فرمایا : " ان لوگوں کا کتوں سے کیا واسطہ ہے؟ " بعد میں آپ نے شکاری کتے اور بکریوں ( کی حفاظت ) والے کتے کی اجازت دے دی ۔