صحيح مسلم حدیث نمبر: 390
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 155.1
Sahih Muslim 390
کتاب #1: ایمان کے احکام و مسائل
وحَدَّثَنَاه عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يُونُسُ . ح وحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حميد ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ كُلُّهُمْ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عُيَيْنَةَ: إِمَامًا مُقْسِطًا وَحَكَمًا عَدْلًا، وَفِي رِوَايَةِ يُونُسَ: حَكَمًا عَادِلًا، وَلَمْ يَذْكُرْ: إِمَامًا مُقْسِطًا، وَفِي حَدِيثِ صَالِحٍ: حَكَمًا مُقْسِطًا، كَمَا قَالَ اللَّيْثُ وَفِي حَدِيثِهِ مِنَ الزِّيَادَةِ: وَحَتَّى تَكُونَ السَّجْدَةُ الْوَاحِدَةُ خَيْرًا مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ: اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ سورة النساء آية 159 الآيَةَ.
سفیان بن عیینہ، یونس اور صالح نے (ابن شہاب) زہری سے (ان کی) اسی سند کے ساتھ روایت نقل کی۔ ابن عیینہ کی روایت میں ہے: ”انصاف کرنے والے پیشوا، عادل حاکم“ اور یونس کی روایت میں: ”عادل حاکم“ ہے، انہوں نے ”انصاف کرنے والے پیشوا“ کا تذکرہ نہیں کیا۔ اور صالح کی روایت میں لیث کی طرح ہے: ”انصاف کرنے والے حاکم“ اور یہ اضافہ بھی ہے: ”حتی کہ ایک سجدہ دنیا اور اس کی ہر چیز سے بہتر ہو گا۔“ (کیونکہ باقی انبیاء کے ساتھ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مکمل ایمان ہو گا، اور اولو العزم نبی جو صاحب کتاب و شریعت تھا، آپ کی امت میں شامل ہو گا اور اسی کے مطابق فیصلے فرما رہا ہو گا۔) پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ (آخر میں) کہتے ہیں: چاہو تو یہ آیت پڑھ لو: وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ ”اہل کتاب میں سے کوئی نہ ہو گا مگر عیسیٰ کی وفات سے پہلے ان پر ضرور ایمان لائے گا (اور انہی کے ساتھ امت محمدیہ میں شامل ہو گا۔)“ [صحيح مسلم/حدیث: 390]