صحيح مسلم حدیث نمبر: 38
📖 صحيح مسلم باب:0 حدیث نمبر : 38
Sahih Muslim 38
کتاب #1ق: مقدمہ
6ق: باب الْكَشْفِ عَنْ مَعَايِبِ رُوَاةِ الْحَدِيثِ وَنَقَلَةِ الأَخْبَارِ وَقَوْلِ الأَئِمَّةِ فِي ذَلِكَ
باب: حدیث کے راویوں کا عیب بیان کرنا درست ہے اور وہ غیبت میں داخل نہیں۔
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ مِنْ أَهْلِ مَرْوَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ: قُلْتُ لِسُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ: إِنَّ عَبَّادَ بْنَ كَثِيرٍ، مَنْ تَعْرِفُ حَالَهُ، وَإِذَا حَدَّثَ، جَاءَ بِأَمْرٍ عَظِيمٍ، فَتَرَى أَنْ أَقُولَ لِلنَّاسِ: لَا تَأْخُذُوا عَنْهُ؟ قَالَ سُفْيَانُ: بَلَى، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَكُنْتُ إِذَا كُنْتُ فِي مَجْلِسٍ، ذُكِرَ فِيهِ عَبَّادٌ، أَثْنَيْتُ عَلَيْهِ فِي دِينِهِ، وَأَقُولُ: لَا تَأْخُذُوا عَنْهُ وَقَالَ مُحَمَّدٌ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: قَالَ أَبِي: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ: انْتَهَيْتُ إِلَى شُعْبَةَ، فَقَالَ: هَذَا عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ فَاحْذَرُوهُ
عبد اللہ بن مبارک نے کہا : میں نے سفیان ثوری سے عرض کی : بلاشبہ عباد بن کثیر ایسا ہے جس کا حال آپ کو معلوم ہے ۔ جب وہ حدیث بیان کرتا ہے تو بڑی بات کرتا ہے ، کیا آپ کی رائے ہے کہ میں لوگوں سے کہہ دیا کروں : اس سے ( حدیث ) نہ لو؟ سفیان کہنےلگے : کیوں نہیں! عبد اللہ نے کہا : پھر یہ ( میرا معمول ) ہو گیا کہ جب میں کسی ( علمی ) مجلس میں ہوتا جہاں عباد کا ذکر ہوتا تو میں دین کے حوالے سے اس کی تعریف کرتا اور ( ساتھ یہ بھی ) کہتا : اس سے ( حدیث ) نہ لو ۔ ہم سے محمد نے بیان کیا ، کہا : ہم سے عبد اللہ بن عثمان نے بیان کیا ، کہا : میرے والد نے کہا : عبد اللہ بن مبارک نے کہا : میں شعبہ تک پہنچا تو انہوں نے ( بھی ) کہا : یہ عباد بن کثیر ہے تم لوگ اس سے ( حدیث بیان کرنے میں ) احتیاط کرو