صحيح مسلم حدیث نمبر: 379
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 150.1
Sahih Muslim 379
کتاب #1: ایمان کے احکام و مسائل
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَعْطَى رَهْطًا، وَسَعْدٌ جَالِسٌ فِيهِمْ، قَالَ سَعْدٌ: فَتَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْهُمْ مَنْ لَمْ يُعْطِهِ وَهُوَ أَعْجَبُهُمْ إِلَيَّ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْ مُسْلِمًا، قَالَ: فَسَكَتُّ قَلِيلًا، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ مِنْهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْ مُسْلِمًا، قَالَ: فَسَكَتُّ قَلِيلًا، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا عَلِمْتُ مِنْهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوْ مُسْلِمًا، إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ، خَشْيَةَ أَنْ يُكَبَّ فِي النَّارِ عَلَى وَجْهِهِ ".
ابن شہاب (زہری) کے بھتیجے نے اپنے چچا سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے بن ابی وقاص نےاپنے والد سعد رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو کچھ عطا فرمایا، سعد رضی اللہ عنہ بھی ان میں بیٹھے تھے، سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک کو چھوڑ دیا، اسے کچھ عطا نہ فرمایا، حالانکہ ان سب سے وہی مجھے زیادہ اچھا لگتا تھا، چنانچہ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ نے فلاں سے اعراض کیوں فرمایا؟ اللہ کی قسم! میں اسے مومن سمجھتا ہوں۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا مسلمان۔“ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر میں تھوڑی دیر کے لیے چپ ہو گیا، پھر مجھ پر اس بات کا غلبہ ہوا جو میں اس کے بارے میں جانتا تھا تو میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! فلاں سے آپ نے اعراض کیوں فرمایا؟ اللہ کی قسم! میں تو اسے مومن سمجھتا ہوں۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا مسلمان۔“ تو میں تھوڑی دیر کے لیے چپ ہو گیا، پھر مجھ پر اس بات کا غلبہ ہوا جو میں اس کے بارے میں جانتا تھا، چنانچہ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! فلاں سے آپ نے اعراض کیوں فرمایا؟ کیونکہ اللہ کی قسم! میں نے اسے مومن سمجھتا ہوں۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا مسلمان۔ بلاشبہ میں ایک آدمی کو (عطیہ) دیتا ہوں، حالانکہ دوسرا مجھے اس سے زیادہ پیارا ہوتا ہے، اس بات سے ڈرتے ہوئے کہ اسے منہ کے بل آگ میں ڈال دیا جائے گا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 379]