صحيح مسلم حدیث نمبر: 3758
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 1497.01
📖 صحيح مسلم باب:19 حدیث نمبر : 16
Sahih Muslim 3758
کتاب #19: لعان کا بیان
1: باب:
باب:
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، وَعِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيَّانِ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ رُمْحٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ: ذُكِرَ التَّلَاعُنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: عَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ فِي ذَلِكَ قَوْلًا ثُمَّ انْصَرَفَ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ يَشْكُو إِلَيْهِ أَنَّهُ وَجَدَ مَعَ أَهْلِهِ رَجُلًا، فَقَالَ عَاصِمٌ: مَا ابْتُلِيتُ بِهَذَا إِلَّا لِقَوْلِي، فَذَهَبَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي وَجَدَ عَلَيْهِ امْرَأَتَهُ، وَكَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ مُصْفَرًّا قَلِيلَ اللَّحْمِ سَبِطَ الشَّعَرِ، وَكَانَ الَّذِي ادَّعَى عَلَيْهِ أَنَّهُ وَجَدَ عِنْدَ أَهْلِهِ خَدْلًا آدَمَ كَثِيرَ اللَّحْمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ بَيِّنْ، فَوَضَعَتْ شَبِيهًا بِالرَّجُلِ الَّذِي ذَكَرَ زَوْجُهَا أَنَّهُ وَجَدَهُ عِنْدَهَا، فَلَاعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا "، فَقَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْمَجْلِسِ: أَهِيَ الَّتِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ رَجَمْتُ أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ رَجَمْتُ هَذِهِ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَا تِلْكَ امْرَأَةٌ كَانَتْ تُظْهِرُ فِي الْإِسْلَامِ السُّوءَ.
عبداﷲ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ کے پاس لعان کا ذکر ہوا ۔ عاصم بن عدی نے اس میں کچھ کہا پھر وہ چلے گئے ۔ تب ان کے پاس ان کی قوم کا ایک شخص آیا اور شکایت کرنے لگا کہ اس نے اپنی بی بی کے ساتھ ایک مرد کو دیکھا ۔ عاصم نے کہا میں اس بلا میں مبتلا ہوا اپنی بات کی وجہ سے ۔ پھر عاصمؓ اس کو لے کر رسول اﷲ ﷺ کے پاس آئے ۔ اور اس شخص نے سارا حال آپ سے بیان کیا وہ شخص زرد رنگ دبلا سیدھے بالوں والا تھا ۔ او رجس پر دعویٰ کرتا تھا وہ پر گوشت پنڈلیوں والا ، گندم رنگ ، موٹا تھا ۔ جناب رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا اﷲ تو کھول دے ۔ پھر وہ عورت بچہ جنی جو مشابہ تھا اس شخص کے جس پر تہمت تھی ۔ تب جناب رسول اﷲ ﷺ نے لعان کروایا دونوں ۔ میں ایک شخص بولا اے ابن عباسؓ! کیا یہ عورت وہی عورت تھی جس کے لیے جناب رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا تھا اگر میں کسی کو بغیر گواہوں کے سنگسار کرتا تو اس عورت کو کرتا ۔ ابن عباسؓ نے کا نہیں وہ دوسری عورت تھی جو مسلمانوں میں برائی کے ساتھ مشہور تھی ( یعنی لوگ کہتے تھے کہ یہ فاحشہ ہے نہ گواہ تھے نہ اقرار تھا ) ۔