صحيح مسلم حدیث نمبر: 3694
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 1479.04
📖 صحيح مسلم باب:18 حدیث نمبر : 43
Sahih Muslim 3694
کتاب #18: طلاق کے احکام و مسائل
5: باب فِي الإِيلاَءِ وَاعْتِزَالِ النِّسَاءِ وَتَخْيِيرِهِنَّ وَقَوْلِهِ تَعَالَى: {وَإِنْ تَظَاهَرَا عَلَيْهِ}:
باب: ایلاء دار عورتوں سے علیحدہ ہونا۔
وحدثنا وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَّيرُ بْنُ حَرْبٍ : وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، قَالَا: حدثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ حُنَيْنٍ وَهُوَ مَوْلَى الْعَبَّاسِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: كُنْتُ أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ : عَنِ الْمَرْأَتَيْنِ اللَّتَيْنِ تَظَاهَرَتَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَبِثْتُ سَنَةً مَا أَجِدُ لَهُ مَوْضِعًا حَتَّى صَحِبْتُهُ إِلَى مَكَّةَ، فَلَمَّا كَانَ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ ذَهَبَ يَقْضِي حَاجَتَهُ، فقَالَ: أَدْرِكْنِي بِإِدَاوَةٍ مِنْ مَاءٍ، فَأَتَيْتُهُ بِهَا، فَلَمَّا قَضَى حَاجَتَهُ وَرَجَعَ، ذَهَبْتُ أَصُبُّ عَلَيْهِ وَذَكَرْتُ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ " مَنِ الْمَرْأَتَانِ، فَمَا قَضَيْتُ كَلَامِي حَتَّى، قَالَ: عَائِشَةُ، وَحَفْصَةُ ".
سفیان بن عیینہ نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبید بن حنین سے سنا ، وہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام تھے ۔ انہوں نے کہا : میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ان دو عورتوں کے بارے میں پوچھنا چاہتا تھا جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایکا کیا تھا ، میں سال بھر منتظر رہا ، مجھے کوئی مناسب موقع نہ مل رہا تھا ، حتی کہ میں مکہ کے سفر میں ان کے ساتھ گیا ، جب ہم مر الظہران پہنچے تو وہ قضائے حاجت کے لیے گئے اور کہا : میرے پاس پانی کا ایک لوٹا لے آنا ، میں نے انہیں لا دیا ۔ جب وہ اپنی حاجت سے فارغ ہو کر لوٹے ، میں جا کر ان ( کے ہاتھوں ) پر پانی ڈالنے لگا ، تو مجھے ( سوال ) یاد آ گیا ، میں نے ان سے پوچھا : اے امیر المومنین! وہ کون سی دو عورتیں تھیں؟ میں نے ابھی اپنی بات ختم نہ کی تھی کہ انہوں نے جواب دیا : وہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنھن تھیں