📖 صحيح مسلم • فہرست کتب (Book Index) ↗

صحيح مسلم

Sahih Muslim (صحيح مسلم)
📁 ایمان کے احکام و مسائل (كِتَاب الْإِيمَانِ) 🏷️ باب: باب: بعض دلوں سے امانت اور ایمان کے اٹھ جانے کا، اور دلوں پر فتنوں کے آنے کا بیان۔
عربی:
اردو:
صحيح مسلم حدیث نمبر: 369 🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 144.01 📖 صحيح مسلم باب:1 حدیث نمبر : 276 Sahih Muslim 369
کتاب #1: ایمان کے احکام و مسائل
64: باب رَفْعِ الأَمَانَةِ وَالإِيمَانِ مِنْ بَعْضِ الْقُلُوبِ وَعَرْضِ الْفِتَنِ عَلَى الْقُلُوبِ:
باب: بعض دلوں سے امانت اور ایمان کے اٹھ جانے کا، اور دلوں پر فتنوں کے آنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي سُلَيْمَانَ بْنَ حَيَّانَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ، فَقَالَ: أَيُّكُمْ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ الْفِتَنَ؟ فَقَالَ قَوْمٌ: نَحْنُ سَمِعْنَاهُ، فَقَالَ: لَعَلَّكُمْ تَعْنُونَ فِتْنَةَ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَجَارِهِ؟ قَالُوا: أَجَلْ، قَالَ: تِلْكَ تُكَفِّرُهَا، الصَّلَاةُ، وَالصِّيَامُ، وَالصَّدَقَةُ، وَلَكِنْ أَيُّكُمْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ الْفِتَنَ، الَّتِي تَمُوجُ مَوْجَ الْبَحْرِ؟ قَالَ حُذَيْفَةُ: فَأَسْكَتَ الْقَوْمُ، فَقُلْتُ: أَنَا، قَالَ: أَنْتَ لِلَّهِ أَبُوكَ، قَالَ حُذَيْفَةُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " تُعْرَضُ الْفِتَنُ عَلَى الْقُلُوبِ كَالْحَصِيرِ عُودًا عُودًا، فَأَيُّ قَلْبٍ أُشْرِبَهَا نُكِتَ فِيهِ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ، وَأَيُّ قَلْبٍ أَنْكَرَهَا نُكِتَ فِيهِ نُكْتَةٌ بَيْضَاءُ، حَتَّى تَصِيرَ عَلَى قَلْبَيْنِ عَلَى أَبْيَضَ مِثْلِ الصَّفَا، فَلَا تَضُرُّهُ فِتْنَةٌ مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ وَالآخَرُ أَسْوَدُ مُرْبَادًّا كَالْكُوزِ مُجَخِّيًا، لَا يَعْرِفُ مَعْرُوفًا، وَلَا يُنْكِرُ مُنْكَرًا، إِلَّا مَا أُشْرِبَ مِنْ هَوَاهُ "، قَالَ حُذَيْفَةُ وَحَدَّثْتُهُ: أَنَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا، بَابًا مُغْلَقًا يُوشِكُ أَنْ يُكْسَرَ، قَالَ عُمَرُ: أَكَسْرًا، لَا أَبَا لَكَ، فَلَوْ أَنَّهُ فُتِحَ لَعَلَّهُ كَانَ يُعَادُ؟ قُلْتُ: لَا، بَلْ يُكْسَرُ، وَحَدَّثْتُهُ أَنَّ ذَلِكَ الْبَابَ رَجُلٌ يُقْتَلُ أَوْ يَمُوتُ حَدِيثًا لَيْسَ بِالأَغَالِيطِ، قَالَ أَبُو خَالِدٍ: فَقُلْتُ لِسَعْدٍ: يَا أَبَا مَالِكٍ، مَا أَسْوَدُ مُرْبَادًّا؟ قَالَ: شِدَّةُ الْبَيَاضِ فِي سَوَادٍ، قَالَ: قُلْتُ: فَمَا الْكُوزُ مُجَخِّيًا؟ قَالَ: مَنْكُوسًا.
ابو خالد سلیمان بن حیان نے سعد بن طارق سے حدیث سنائی ، انہوں نے ربعی سے اور انہوں نے حضرت حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نےکہا : ہم حضرت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کےپاس تھے ، انہوں نے پوچھا : تم میں سے کس نے رسول اللہ ﷺ کو فتنوں کا ذکر کرتے ہوئے سنا؟ کچھ لوگوں نے جواب دیا : ہم نے یہ ذکر سنا ۔ حضرت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے فرمایا : شاید تم و ہ آزمائش مراد لے رہے ہو جو آدمی کو اس کے اہل ، مال اور پڑوسی ( کے بارے ) میں پیش آتی ہے ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ۔ حضرت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : اس فتنے ( اہل ، مال اور پڑوسی کے متعلق امور میں سرزد ہونے والی کوتاہیوں ) کا کفارہ نماز ، روزہ اور صدقہ بن جاتے ہیں ۔ لیکن تم میں سے کس نے رسول اللہ ﷺ سے اس فتنے کا ذکر سنا ے جو سمندر کی طرح موجزن ہو گا؟ حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : اس پر سب لوگ خاموش ہو گئے تو میں نے کہا : میں نے ( سنا ہے ۔ ) حضرت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : تو نے ، تیرا باپ اللہ ہی کا ( بندہ ) ہے ( کہ اسے تم سا بیٹا عطا ہوا ۔ ) حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ سےسنا ، آپ فرما رہے تھے : ’’فتنے دلوں پر ڈالیں جائیں گے ، چٹائی ( کی بنتی ) کی طرح تنکا تنکا ( ایک ایک ) کر کے اور جو دل ان سے سیراب کر دیا گیا ( اس نے ان کو قبول کر لیا اور اپنے اندر بسا لیا ) ، اس میں ایک سیاہ نقطہ پڑ جائے گا اور جس دل میں ان کو رد کر دیا اس میں سفید نقطہ پڑ جائے گا یہاں تک کہ دل دو طرح کے ہو جائیں گے : ( ایک دل ) سفید ، چکنے پتھر کے مانند ہو جائے گا ، جب تک آسمان و زمین قائم رہیں گے ، کوئی فتنہ اس کو نقصان نہیں پہنچائے گا ۔ دوسرا کالا مٹیالے رنگ کا اوندھے لوٹے کے مانند ( جس پر پانی کی بوند بھی نہیں ٹکتی ) جو نہ کسی نیکی کو پہچانے کا اور نہ کسی برائی سے انکار کرے گا ، سوائے اس بات کے جس کی خواہش سے وہ ( دل ) لبریز ہو گا ۔ ‘ ‘ حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : میں نےعمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے بیان کیا کہ آپ کے اور ان فتنوں کے درمیان بند دروازے ہے ، قریب ہے کہ اسے توڑ دیا جائے گا؟ اگر اسے کھول دیا گیا تو ممکن ہے کہ اسے دوبارہ بند کیا جاسکے ۔ میں نے کہا : نہیں ! بلکہ توڑ دیا جائے گا ۔ اور میں نے انہیں بتا دیا : وہ دروازہ آدمی ہے جسے قتل کر دیا جائے گا یا فوت ہو جائے گا ۔ ( حذیفہ نے کہا : میں نے انہیں ) حدیث ( سنائی کوئی ) ، مغالطے میں ڈالنے والی باتیں نہیں ۔ ابو خالدنے کہا : میں نے سعد سے پوچھا : ابو مالک !أسودمرباداً سے کیا مراد ہے ؟ انہوں نے کہا : کالے رنگ میں شدید سفیدی ( مٹیالے رنگ ۔ ) کہا : میں نے پوچھا : الکوز مجخیاسے کیا مراد ہے ؟ انہوں نے کہا : الٹا کیا ہوا کوزہ ۔
صحيح مسلم • حدیث #369
367 368 369 370 371

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#367 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ . ح وحَدَّثَن...
ابو معاویہ اور وکیع نے اعمش سے حدیث سنائی ، انہوں نے زید بن وہب سے اور انہوں نے حضرت حذیفہ ‌رضی ‌الل...
#368 وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي وَوَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ،...
(اعمش کےدوسرے شاگردوں ) عبد اللہ بن نمیر ، وکیع اور عیسیٰ بن یونس نے بھی اسی سند کے ساتھ مذکورہ بالا...
#370 وحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الأَش...
مروان فزاری نے کہا : ہمیں ابو مالک اشجعی نے حضرت ربعی سے حدیث سنائی ، انہوں نےکہا : جب حذیفہ ‌رضی ‌ا...
#371 وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، وَعُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّي...
نعیم بن ابی ہند نے ربعی بن حراش سے اور انہوں نےحضرت حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ حضرت عم...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ