📖 صحيح مسلم • فہرست کتب (Book Index) ↗

صحيح مسلم

Sahih Muslim (صحيح مسلم)
📁 طلاق کے احکام و مسائل (كِتَاب الطَّلَاقِ) 🏷️ باب: باب: کفارہ کا واجب ہونا اس پر جس نے اپنی عورت سے کہا: کہ تو مجھ پر حرام ہے اور نیت طلاق کی نہ تھی۔
عربی:
اردو:
صحيح مسلم حدیث نمبر: 3679 🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 1474.02 📖 صحيح مسلم باب:18 حدیث نمبر : 28 Sahih Muslim 3679
کتاب #18: طلاق کے احکام و مسائل
3: باب وُجُوبِ الْكَفَّارَةِ عَلَى مَنْ حَرَّمَ امْرَأَتَهُ وَلَمْ يَنْوِ الطَّلاَقَ:
باب: کفارہ کا واجب ہونا اس پر جس نے اپنی عورت سے کہا: کہ تو مجھ پر حرام ہے اور نیت طلاق کی نہ تھی۔
حدثنا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حدثنا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الْحَلْوَاءَ وَالْعَسَلَ، فَكَانَ إِذَا صَلَّى الْعَصْرَ دَارَ عَلَى نِسَائِهِ فَيَدْنُو مِنْهُنَّ، فَدَخَلَ عَلَى حَفْصَةَ، فَاحْتَبَسَ عَنْدَهَا أَكْثَرَ مِمَّا كَانَ يَحْتَبِسُ، فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ: فَقِيلَ لِي: أَهْدَتْ لَهَا امْرَأَةٌ مِنْ قَوْمِهَا عُكَّةً مِنْ عَسَلٍ، فَسَقَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ شَرْبَةً، فَقُلْتُ: أَمَا وَاللَّهِ لَنَحْتَالَنَّ لَهُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسَوْدَةَ، وَقُلْتُ: إِذَا دَخَلَ عَلَيْكِ، فَإِنَّهُ سَيَدْنُو مِنْكِ، فَقُولِي لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَكَلْتَ مَغَافِيرَ، فَإِنَّهُ سَيَقُولُ لَكِ: لَا، فَقُولِي لَهُ: مَا هَذِهِ الرِّيح وكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْتَدُّ عَلَيْهِ أَنْ يُوجَدَ مِنْهُ الرِّيحُ، فَإِنَّهُ سَيَقُولُ لَكِ: سَقَتْنِي حَفْصَةُ شَرْبَةَ عَسَلٍ، فَقُولِي لَهُ: جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ، وَسَأَقُولُ ذَلِكِ لَهُ، وَقُولِيهِ أَنْتِ يَا صَفِيَّةُ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَى سَوْدَةَ، قَالَت: تَقُولُ سَوْدَةُ: وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَقَدْ كِدْتُ أَنْ أُبَادِئَهُ بِالَّذِي قُلْتِ لِي، وَإِنَّهُ لَعَلَى الْبَابِ، فَرَقًا مِنْكِ، فَلَمَّا دَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَت: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَكَلْتَ مَغَافِيرَ؟ قَالَ: " لَا "، قَالَت: فَمَا هَذِهِ الرِّيح؟ قَالَ: " سَقَتْنِي حَفْصَةُ شَرْبَةَ عَسَلٍ "، قَالَت: جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيَّ قُلْتُ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ دَخَلَ عَلَى صَفِيَّةَ، فقَالَت بِمِثْلِ ذَلِكَ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَى حَفْصَةَ، قَالَت: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا أَسْقِيكَ مِنْهُ، قَالَ: لَا حَاجَةَ لِي بِهِ، قَالَت: تَقُولُ سَوْدَةُ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَاللَّهِ لَقَدْ حَرَمْنَاهُ، قَالَت: قُلْتُ لَهَا: اسْكُتِي، قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ: حدثنا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْقَاسِمِ، حدثنا أَبُو أُسَامَةَ، بِهَذَا سَوَاءً،
ابواسامہ نے ہمیں ہشام سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد ( عروہ ) سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میٹھی چیز اور شہد کو پسند فرماتے تھے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھتے تو اپنی تمام ازواج کے ہاں چکر لگاتے اور ان کے قریب ہوتے ، ( ایسا ہوا کہ ) آپ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے تو ان کے ہاں آپ اس سے زیادہ ( دیر کے لیے ) رکے جتنا آپ ( کسی بیوی کے پاس ) رکا کرتے تھے ۔ ان ( حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا ) کو ان کے خاندان کی کسی عورت نے شہد کا ( بھرا ہوا ) ایک برتن ہدیہ کیا تھا تو انہوں نے اس میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شہد پلایا ۔ میں نے ( دل میں ) کہا : اللہ کی قسم! ہم آپ ( کو زیادہ دیر قیام سے روکنے ) کے لیے ضرور کوئی حیلہ کریں گی ، چنانچہ میں نے اس بات کا ذکر حضرت سودہ رضی اللہ عنہا سے کیا ، اور کہا : جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے ہاں تشریف لائیں گے تو تمہارے قریب ہوں گے ، ( اس وقت ) تم ان سے کہنا : اللہ کے رسول! کیا آپ نے مغافیر کھائی ہے؟ وہ تمہیں جواب دیں گے ، نہیں! تو تم ان سے کہنا : یہ بو کیسی ہے؟ ۔ ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ بات انتیائی گراں گزرتی تھی کہ آپ سے بو محسوس کی جائے ۔ ۔ اس پر وہ تمہیں جواب دیں گے : مجھے حفصہ نے شہد پلایا تھا ، تو تم ان سے کہنا ( پھر ) اس کی مکھی نے عرفط ( بوٹی ) کا رس چوسا ہو گا ۔ میں بھی آپ سے یہی بات کہوں گی اور صفیہ تم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی کہنا! جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے ، ( عائشہ رضی اللہ عنہا نے ) کہا : سودہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں! آپ ابھی دروازے پر ہی تھے کہ میں تمہاری ملامت کے ر سے آپ کو بلند آواز سے وہبات کہنے ہی لگی تھی جو تم نے مجھ سے کہی تھی ، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قریب ہوئے تو حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اللہ کے رسول! کیا آپ نے مغافیر کھائی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" نہیں ۔ "" انہوں نے کہا : تو یہ بو کیسی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" مجھے حفصہ نے شہد پلایا تھا ۔ "" انہوں نے کہا : پھر اس کی مکھی نے عرفط کا رس چوسا ہو گا ۔ اس کے بعد جب آپ میرے ہاں تشریف لائے ، تو میں نے بھی آپ سے یہی بات کہی ، پھر آپ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے ، تو انہوں نے بھی یہی بات کہی ، اس کے بعد آپ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے ہاں ( دوبارہ ) تشریف لائے تو انہوں نے عرض کی : کیا آپ کو شہد پیش نہ کروں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" نہیں ، مجھے اس کی ضرورت نہیں ۔ "" ( عائشہ رضی اللہ عنہا نے ) کہا : سودہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں ، سبحان اللہ! اللہ کی قسم! ہم نے آپ کو اس سے محروم کر دیا ہے ۔ تو میں نے ان سے کہا : خاموش رہیں ۔ ابواسحاق ابراہیم نے کہا : ہمیں حسن بن بشر بن قاسم نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں ابواسامہ نے بالکل اسی طرح حدیث بیان کی
صحيح مسلم • حدیث #3679
3677 3678 3679 3680 3681

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#3676 وحدثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هِشَامٍ يَعْنِي الدَّسْتَوَ...
ہشام ، یعنی دستوائی ( کپڑے والے ) سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : مجھے یحییٰ بن کثیر نے یعلیٰ بن حکیم س...
#3677 حدثنا يَحْيَى بْنُ بِشْرٍ الْحَرِيرِيُّ ، حدثنا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ ، عَنْ يَحْيَى بْ...
معاویہ بن سلام نے ہمیں یحییٰ بن ابی کثیر سے حدیث بیان کی کہ یعلیٰ بن حکیم نے انہیں خبر دی ، انہیں سع...
#3678 وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حدثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخ...
عبید بن عمیر نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ، وہ بتا رہی تھیں کہ نبی صلی اللہ...
#3680 وحَدَّثَنِيهِ سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، بِه...
علی بن مسہر نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ