صحيح مسلم حدیث نمبر: 359
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 139.02
📖 صحيح مسلم باب:1 حدیث نمبر : 266
Sahih Muslim 359
کتاب #1: ایمان کے احکام و مسائل
61: باب وَعِيدِ مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ مُسْلِمٍ بِيَمِينٍ فَاجِرَةٍ بِالنَّارِ:
باب: جھوٹی قسم کھاکر کسی مسلمان کا حق مارنے پر جہنم کی وعید۔
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ جميعا، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ رَجُلَانِ يَخْتَصِمَانِ فِي أَرْضٍ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: إِنَّ هَذَا انْتَزَى عَلَى أَرْضِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَهُوَ امْرُؤُ الْقَيْسِ بْنُ عَابِسٍ الْكِنْدِيُّ، وَخَصْمُهُ رَبِيعَةُ بْنُ عِبْدَانَ، قَالَ: بَيِّنَتُكَ؟ قَالَ: لَيْسَ لِي بَيِّنَةٌ، قَالَ: يَمِينُهُ؟ قَالَ: إِذًا يَذْهَبُ بِهَا، قَالَ: لَيْسَ لَكَ إِلَّا ذَاكَ، قَالَ: فَلَمَّا قَامَ لِيَحْلِفَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ اقْتَطَعَ أَرْضًا ظَالِمًا، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ "، قَالَ إِسْحَاق فِي رِوَايَتِهِ رَبِيعَةُ بْنُ عَيْدَانَ.
زہیر بن حرب اور اسحاق بن ابراہیم دونوں نے ابو ولید سے حدیث سنائی ( زہیر نے عن أبى الولید کے بجائے حدثنا هشام بن عبد الملك ہمیں ہشام بن عبدالملک نے حدیث سنائی ، کہا ) ہشام بن عبد الملک نے کہا : ہمیں ابو عوانہ نے عبد الملک بن عمیر سے حدیث سنائی ، انہوں نے علقمہ بن وائل سے اور انہوں نے ( اپنے والد ) حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس تھا ، آپ کے پاس دو آدمی ( ایک قطعہ ) زمین پرجھگڑتے آئے ، دونوں میں ایک نے کہا : اے اللہ کےرسول ! اس نے دور جاہلیت میں میر ی زمین پر قبضہ کیا تھا ، وہ امرؤ القیس بن عابس کندی تھا اور اس کا حریف ربیعہ بن عبدان تھا ۔ آپ نے فرمایا : ’’ ( سب سے پہلے ) تمہارا ثبوت ( شہادت ۔ ) ‘ ‘ اس نے کہا : میرے پاس ثبوت نہیں ہے ۔ آپ نے فرمایا : ’’ ( تب فیصلہ ) اس کی قسم ( پر ہو گا ) ‘ ‘ اس نے کہا : تب تو وہ زمین لے جائے گا ۔ آپ نے فرمایا : ’’ اس کے علاوہ کچھ نہیں ۔ ‘ ‘ حضرت وائل رضی اللہ عنہ نے کہا : جب وہ قسم کھانے کے لیے اٹھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جس نے ظلم کرتے ہوئے کوئی زمین چھینی ، وہ اس حالت میں اللہ سے ملے گا کہ اللہ اس پر ناراض ہو گا ۔ ‘ ‘ اسحاق نے اپنی روایت میں ( دوسرے فریق کا نام ) ربیعہ بن عیدان ( باء کے بجائے یاءکے ساتھ ) بتایا ہے ۔