صحيح مسلم حدیث نمبر: 3564
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 1442
Sahih Muslim 3564
کتاب #16: نکاح کے احکام و مسائل
وحدثنا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، حدثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ. ح وحدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنْ جُدَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ الْأَسَدِيَّةِ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَنْهَى عَنِ الْغِيلَةِ حَتَّى ذَكَرْتُ أَنَّ الرُّومَ، وَفَارِسَ يَصْنَعُونَ ذَلِكَ، فَلَا يَضُرُّ أَوْلَادَهُمْ "، قَالَ مُسْلِم: وَأَمَّا خَلَفٌ، فقَالَ: عَنْ جُذَامَةَ الْأَسَدِيَّةِ، وَالصَّحِيحُ: مَا قَالَهُ يَحْيَى بِالدَّالِ.
خلف بن ہشام اور یحییٰ بن یحییٰ نے۔۔ الفاظ یحییٰ کے ہیں۔۔ مالک بن انس سے حدیث بیان کی، انہوں نے محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل سے، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے جدامہ بنت وہب اسدیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”میں نے ارادہ کیا تھا کہ غیلہ (دودھ پلانے والی عورت کے ساتھ مباشرت کرنے) سے منع کر دوں، پھر مجھے یاد آیا کہ روم اور فارس کے لوگ ایسا کرتے ہیں اور یہ ان کے بچوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتا۔“ جہاں تک خلف کا تعلق ہے تو انہوں نے کہا: جذامہ اسدیہ سے روایت ہے۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے کہا: صحیح وہ ہے جو یحییٰ نے کہا (کہ یہ لفظ) بغیر نقطے والی دال کے ساتھ (جدامہ) ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3564]