صحيح مسلم حدیث نمبر: 3550
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 1438.6
Sahih Muslim 3550
کتاب #16: نکاح کے احکام و مسائل
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، حدثنا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: فَرَدَّ الْحَدِيثَ حَتَّى رَدَّهُ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيّ ، قَالَ: ذُكِرَ الْعَزْلُ عَنْدَ َالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ: " وَمَا ذَاكُمْ؟ "، قَالُوا: الرَّجُلُ تَكُونُ لَهُ الْمَرْأَةُ تُرْضِعُ، فَيُصِيبُ مِنْهَا وَيَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ مِنْهُ، وَالرَّجُلُ تَكُونُ لَهُ الْأَمَةُ فَيُصِيبُ مِنْهَا، وَيَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ مِنْهُ، قَالَ: " فَلَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا ذَاكُمْ، فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ "، قَالَ: ابْنُ عَوْنٍ: فَحَدَّثْتُ بِهِ الْحَسَنَ، فقَالَ: وَاللَّهِ لَكَأَنَّ هَذَا زَجْرٌ.
معاذ بن معاذ نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابن عون نے محمد (بن سیرین) سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبدالرحمٰن بن بشر انصاری سے روایت کی، اور اس حدیث کو پیچھے لے گئے اور اسے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کیا، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عزل کا تذکرہ کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اس سے) تمہارا مقصود کیا ہے؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جواب دیا: کسی آدمی کی بیوی ہے (بچے کو) دودھ پلا رہی ہوتی ہے، وہ اس سے مباشرت کرتا ہے اور ناپسند کرتا ہے کہ وہ اس سے حاملہ ہو۔ اور کسی شخص کی لونڈی ہے وہ اس سے مباشرت کرتا ہے اور ناپسند کرتا ہے کہ وہ اس سے حاملہ ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں کہ تم ایسا نہ کرو، یہ (بچے کا پیدا ہونا یا نہ ہونا) تو تقدیر کا معاملہ ہے۔“ ابن عون نے کہا: میں نے یہ حدیث حسن (بصری) کو سنائی تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! یہ تو گویا ڈانٹ ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3550]