صحيح مسلم حدیث نمبر: 3505
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 1428.04
📖 صحيح مسلم باب:16 حدیث نمبر : 107
Sahih Muslim 3505
کتاب #16: نکاح کے احکام و مسائل
15: باب زَوَاجِ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَنُزُولِ الْحِجَابِ وَإِثْبَاتِ وَلِيمَةِ الْعُرْسِ:
باب: نکاح زینب رضی اللہ عنہا اور نزول حجاب اور ولیمہ کا بیان۔
حدثنا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، وَعَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، كُلُّهُمْ عَنْ مُعْتَمِرٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ حَبِيبٍ: حدثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، حدثنا أَبُو مِجْلَزٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " لَمَّا تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ دَعَا الْقَوْمَ فَطَعِمُوا، ثُمَّ جَلَسُوا يَتَحَدَّثُونَ، قَالَ: فَأَخَذَ كَأَنَّهُ يَتَهَيَّأُ لِلْقِيَامِ فَلَمْ يَقُومُوا، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَامَ، فَلَمَّا قَامَ، قَامَ مَنْ قَامَ مِنَ الْقَوْمِ "، زَادَ عَاصِمٌ، وَابْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى فِي حَدِيثِهِمَا، قَالَ: فَقَعَدَ ثَلَاثَةٌ، وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ لِيَدْخُلَ، فَإِذَا الْقَوْمُ جُلُوسٌ، ثُمَّ إِنَّهُمْ قَامُوا فَانْطَلَقُوا، قَالَ: فَجِئْتُ فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ قَدِ انْطَلَقُوا، قَالَ: فَجَاءَ حَتَّى دَخَلَ، فَذَهَبْتُ أَدْخُلُ فَأَلْقَى الْحِجَابَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، قَالَ: وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ، إِلَى قَوْلِهِ: إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيمًا سورة الأحزاب آية 53.
یحییٰ بن حبیب حارثی ، عاصم بن نضر تیمی اور محمد بن عبدالاعلیٰ نے ہمیں حدیث بیان کی ، سب نے معتمر سے روایت کی ۔ لفظ ( یحییٰ ) بن حبیب کے ہیں ۔ کہا : ہم سے معتمر بن سلیمان نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے اپنے والد سے سنا ، انہوں نے کہا : ہمیں ابومجلز نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو آپ نے لوگوں کو ( کھانے کی ) دعوت دی ، انہوں نے کھانا کھایا ، پھر بیٹھ کر باتیں کرنے لگے ۔ کہا : آپ نے ایسا انداز اختیار فرمایا گویا کہ کھڑے ہونے لگے ہوں اس پر بھی وہ نہ اٹھے ، جب آپ نے یہ صورت حال دیکھی تو آپ کھڑے ہو گئے ، جب آپ کھڑے ہوئے تو لوگوں میں سے بھی جو کھڑے ہوئے ، وہ ہو گئے ۔ عاصم اور ابن عبدالاعلیٰ نے اپنی حدیث میں اضافہ کیا : کہا "" تین آدمی بیٹھے رہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ( حجرے میں ) داخل ہونے کے لیے تشریف لے آئے ، تو ( اس وقت بھی ) وہ لوگ بیٹھے ہوئے تھے ، پھر ( کچھ دیر بعد ) وہ اٹھے اور چلے گئے ۔ ( انس رضی اللہ عنہ نے ) کہا : میں نے آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ وہ جا چکے ہیں ۔ آپ تشریف لائے اور اندر داخل ہوئے ، میں بھی داخل ہونے لگا تو آپ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکا دیا ۔ کہا : اور ( اس موقع پر ) اللہ عزوجل نے ( یہ آیت ) نازل فرمائی : "" اے ایمان والو! تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو ، الا یہ کہ تمہیں کھانے کے لیے اجازت دی جائے ، ایسے ( وقت میں ) آؤ کہ ( آ کر ) اس کے پکنے کا انتظار کرنے والے نہ ہو ( کھانا رکھ دیا جائے تو آؤ ) "" اس فرمان تک : "" بلاشبہ یہ بات اللہ کے نزدیک بہت بڑی تھی