صحيح مسلم حدیث نمبر: 3442
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 1408.07
📖 صحيح مسلم باب:16 حدیث نمبر : 45
Sahih Muslim 3442
کتاب #16: نکاح کے احکام و مسائل
4: باب تَحْرِيمِ الْجَمْعِ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا أَوْ خَالَتِهَا فِي النِّكَاحِ:
باب: بھتیجی اور اس کی پھوپھی یا خالہ اور اس کی بھانجی کا جمع کرنا نکاح میں حرام ہے۔
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: " لَا يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، وَلَا يَسُومُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ، وَلَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، وَلَا عَلَى خَالَتِهَا، وَلَا تَسْأَلُ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ صَحْفَتَهَا وَلْتَنْكِحْ، فَإِنَّمَا لَهَا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهَا ".
ہشام نے محمد بن سیرین سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی آدمی اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر ( اپنے ) نکاح کا پیغام نہ دے ، اور نہ اپنے بھائی کے سودے پر سودا کرے ، اور نہ کسی عورت سے اس کی پھوپھی اور خالہ کی موجودگی میں نکاح کیا جائے اور نہ کوئی عورت اپنی ( مسلمان ) بہن کی طلاق کا مطالبہ کرے تاکہ اس کی پلیٹ کو ( اپنے لیے ) انڈیل لے ۔ اسے ( پہلی بیوی کی طلاق کا مطالبہ کیے بغیر ) نکاح کر لینا چاہئے ، بات یہی ہے کہ جو اللہ نے اس کے لیے لکھا ہوا ہے وہی اس کا ہے