صحيح مسلم حدیث نمبر: 3429
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 1406.11
📖 صحيح مسلم باب:16 حدیث نمبر : 32
Sahih Muslim 3429
کتاب #16: نکاح کے احکام و مسائل
3: باب نِكَاحِ الْمُتْعَةِ وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ ثُمَّ نُسِخَ ثُمَّ أُبِيحَ ثُمَّ نُسِخَ وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ:
باب: متعہ کے حلال ہونے کا پھر حرام ہونے کا پھر حلال ہونے کا اور پھر قیامت تک حرام رہنے کا بیان۔
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ : أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ، قَامَ بِمَكَّةَ، فقَالَ: إِنَّ نَاسًا أَعْمَى اللَّهُ قُلُوبَهُمْ كَمَا أَعْمَى أَبْصَارَهُمْ يُفْتُونَ بِالْمُتْعَةِ يُعَرِّضُ بِرَجُلٍ فَنَادَاهُ، فقَالَ: إِنَّكَ لَجِلْفٌ جَافٍ، فَلَعَمْرِي لَقَدْ كَانَتِ الْمُتْعَةُ تُفْعَلُ عَلَى عَهْدِ إِمَامِ الْمُتَّقِينَ، يُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ لَهُ ابْنُ الزُّبَيْرِ: فَجَرِّبْ بِنَفْسِكَ، فَوَاللَّهِ لَئِنْ فَعَلْتَهَا لَأَرْجُمَنَّكَ بِأَحْجَارِكَ، قَالَ: ابْنُ شِهَابٍ، فَأَخْبَرَنِي خَالِدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ بْنِ سَيْفِ اللَّهِ: أَنَّهُ بَيْنَا هُوَ جَالِسٌ عَنْدَ رَجُلٍ، جَاءَهُ رَجُلٌ فَاسْتَفْتَاهُ فِي الْمُتْعَةِ، فَأَمَرَهُ بِهَا، فقَالَ لَهُ ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيُّ: مَهْلًا، قَالَ: مَا هِيَ؟ وَاللَّهِ لَقَدْ فُعِلَتْ فِي عَهْدِ إِمَامِ الْمُتَّقِينَ، قَالَ ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ: إِنَّهَا كَانَتْ رُخْصَةً فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ لِمَنِ اضْطُرَّ إِلَيْهَا كَالْمَيْتَةِ، وَالدَّمِ، وَلَحْمِ الْخِنْزِيرِ، ثُمَّ أَحْكَمَ اللَّهُ الدِّينَ وَنَهَى عَنْهَا، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَأَخْبَرَنِي رَبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ : أَنَّ أَبَاهُ ، قَالَ: قَدْ كُنْتُ اسْتَمْتَعْتُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي عَامِرٍ بِبُرْدَيْنِ أَحْمَرَيْنِ، ثُمَّ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُتْعَةِ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَسَمِعْتُ رَبِيعَ بْنَ سَبْرَةَ، يُحَدِّثُ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَنَا جَالِسٌ.
مجھے یونس نے خبر دی کہ ابن شہاب نے کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ مکہ میں کھڑے ہوئے ، اور کہا : بلاشبہ کچھ لوگ ہیں ، اللہ نے ان کے دلوں کو بھی اندھا کر دیا ہے جس طرح ان کی آنکھوں کو اندھا کیا ہے ۔ وہ لوگوں کو متعہ ( کے جواز ) کا فتویٰ دیتے ہیں ، وہ ایک آدمی ( حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ) پر تعریض کر رہے تھے ، اس پر انہوں نے ان کو پکارا اور کہا : تم بے ادب ، کم فہم ہو ، میری عمر قسم! بلاشبہ امام المتقین کے عہد میں ( نکاح ) متعہ کیا جاتا تھا ۔ ۔ ان کی مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی ۔ ۔ تو ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : تم خود اپنے ساتھ اس کا تجربہ کر ( دیکھو ) ، بخدا! اگر تم نے یہ کام کیا تو میں تمہارے ( ہی ان ) پتھروں سے ( جن کے تم مستحق ہو گے ) تمہیں رجم کروں گا ۔ ابن شہاب نے کہا : مجھے خالد بن مہاجر بن سیف اللہ نے خبر دی کہ اس اثنا میں جب وہ ان صاحب ( ابن عباس رضی اللہ عنہ ) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، ایک آدمی ان کے پاس آیا اور متعہ کے بارے میں ان سے فتویٰ مانگا تو انہوں نے اسے اس ( کے جواز ) کا حکم دیا ۔ اس پر ابن ابی عمرہ انصاری رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : ٹھہریے! انہوں نے کہا : کیا ہوا؟ اللہ کی قسم! میں نے امام المتقین صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں کیا ہے ۔ ابن ابی عمرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : بلاشبہ یہ ( ایسا کام ہے کہ ) ابتدائے اسلام میں ایسے شخص ے لئے جو ( حالات کی بنا پر ) اس کے لئے مجبور کر دیا گیا ہو ، اس کی رخصت تھی جس طرح ( مجبوری میں ) مردار ، خون اور سور کے گوشت ( کے لیے ) ہے ، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو محکم کیا اور اس سے منع فرما دیا ۔ ابن شہاب نے کہا : مجھے ربیع بن سبرہ جہنی نے بتایا کہ ان کے والد نے کہا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بنو عامر کی ایک عورت سے دو سرخ ( کی پیش کش ) پر متعہ کیا تھا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں متعہ سے منع فرما دیا ۔ ابن شہاب نے کہا : میں نے ربیع بن سبرہ سے سنا ، وہ یہی حدیث عمر بن عبدالعزیز سے بیان کر رہے تھے اور میں ( اس مجلس میں ) بیٹھا ہوا تھا ۔