صحيح مسلم حدیث نمبر: 3407
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 1403
Sahih Muslim 3407
کتاب #16: نکاح کے احکام و مسائل
حدثنا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حدثنا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حدثنا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى امْرَأَةً، فَأَتَى امْرَأَتَهُ زَيْنَبَ، وَهِيَ تَمْعَسُ مَنِيئَةً لَهَا، فَقَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى أَصْحَابِهِ، فقَالَ: " إِنَّ الْمَرْأَةَ تُقْبِلُ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ، وَتُدْبِرُ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ، فَإِذَا أَبْصَرَ أَحَدُكُمُ امْرَأَةً فَلْيَأْتِ أَهْلَهُ، فَإِنَّ ذَلِكَ يَرُدُّ مَا فِي نَفْسِهِ "،
ہشام بن ابی عبداللہ نے ابوزبیر سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ ایک عورت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر پڑ گئی تو آپ اپنی اہلیہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے پاس آئے۔ وہ اپنے لیے ایک چمڑے کو رنگ رہی تھیں، آپ نے (گھر میں) اپنی ضرورت پوری فرمائی، پھر اپنے صحابہ کی طرف تشریف لے گئے، اور فرمایا: ”بلاشبہ (فتنے میں ڈالنے کے حوالے سے) عورت شیطان کی صورت میں سامنے آتی ہے اور شیطان ہی کی صورت میں مڑ کر واپس جاتی ہے۔ تم میں سے کوئی جب کسی عورت کو دیکھے تو وہ اپنی بیوی کے پاس آ جائے، بلاشبہ یہ چیز اس خواہش کو ہٹا دے گی جو اس کے دل میں (پیدا ہوئی) ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3407]