صحيح مسلم حدیث نمبر: 297
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 108
Sahih Muslim 297
کتاب #1: ایمان کے احکام و مسائل
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَهَذَا حَدِيثُ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ، رَجُلٌ عَلَى فَضْلِ مَاءٍ بِالْفَلَاةِ يَمْنَعُهُ مِنِ ابْنِ السَّبِيلِ، وَرَجُلٌ بَايَعَ رَجُلًا بِسِلْعَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَحَلَفَ لَهُ بِاللَّهِ لَأَخَذَهَا بِكَذَا وَكَذَا، فَصَدَّقَهُ وَهُوَ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ، وَرَجُلٌ بَايَعَ إِمَامًا، لَا يُبَايِعُهُ إِلَّا لِدُنْيَا، فَإِنْ أَعْطَاهُ مِنْهَا، وَفَى وَإِنْ لَمْ يُعْطِهِ مِنْهَا لَمْ يَفِ ".
ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابوکریب دونوں نے کہا کہ ہمیں ابومعاویہ نے اعمش سے حدیث سنائی، انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی (اور یہ الفاظ ابوبکر کی حدیث کے ہیں) انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین (قسم کے لوگ) ہیں جن سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بات نہیں کرے گا نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ انہیں پاک صاف کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ (ایک) وہ آدمی جو بیابان میں ضرورت سے زائد پانی رکھتا ہے لیکن وہ مسافر کو اس سے روکتا ہے، (دوسرا) وہ جس نے کسی آدمی کے ساتھ عصر کے بعد (عین انسانوں کے اعمال اللہ کے حضور پیش کیے جانے کے وقت) سامان کا سودا کیا اور اللہ کی قسم کھائی کہ میں نے یہ سامان اتنی رقم میں لیا ہے جبکہ اس نے اتنے کا نہیں لیا۔ اور خریدار اس کی بات مان لیتا ہے۔ اور (تیسرا) وہ آدمی جس نے حکمران کی بیعت کی اور صرف دنیا کے لیے کی (دین کی سربلندی مقصود نہ تھی۔) اگر اس نے اسے اس (دنیا) میں سے کچھ دے دیا تو (اس نے) وفا کی اور اگر نہیں دیا تو وفادار نہ رہا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 297]