📖 صحيح مسلم • فہرست کتب (Book Index) ↗

صحيح مسلم

Sahih Muslim (صحيح مسلم)
📁 ایمان کے احکام و مسائل (كِتَاب الْإِيمَانِ) 🏷️ باب: باب: کافر کو لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد قتل کرنا حرام ہے۔
عربی:
اردو:
صحيح مسلم حدیث نمبر: 279 🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 97 📖 صحيح مسلم باب:1 حدیث نمبر : 185 Sahih Muslim 279
کتاب #1: ایمان کے احکام و مسائل
41: باب تَحْرِيمِ قَتْلِ الْكَافِرِ بَعْدَ أَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ:
باب: کافر کو لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد قتل کرنا حرام ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِر ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، أَنَّ خَالِدًا الأَثْبَجَ ابْنَ أَخِي صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ حَدَّثَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَ، أَنَّ جُنْدَبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيَّ ، بَعَثَ إِلَى عَسْعَسِ بْنِ سَلَامَةَ زَمَنَ فِتْنَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ: اجْمَعْ لِي نَفَرًا مِنْ إِخْوَانِكَ حَتَّى أُحَدِّثَهُمْ، فَبَعَثَ رَسُولًا إِلَيْهِمْ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا، جَاءَ جُنْدَبٌ وَعَلَيْهِ بُرْنُسٌ أَصْفَرُ، فَقَالَ: تَحَدَّثُوا بِمَا كُنْتُمْ تَحَدَّثُونَ بِهِ، حَتَّى دَارَ الْحَدِيثُ، فَلَمَّا دَارَ الْحَدِيثُ إِلَيْهِ، حَسَرَ الْبُرْنُسَ عَنْ رَأْسِهِ، فَقَالَ: إِنِّي أَتَيْتُكُمْ وَلَا أُرِيدُ أَنْ أُخْبِرَكُمْ عَنْ نَبِيِّكُمْ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْثًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَى قَوْمٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، وَإِنَّهُمُ الْتَقَوْا، فَكَانَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِذَا شَاءَ أَنْ يَقْصِدَ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَصَدَ لَهُ فَقَتَلَهُ، وَإِنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَصَدَ غَفْلَتَهُ، قَالَ: وَكُنَّا نُحَدَّثُ أَنَّهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، فَلَمَّا رَفَعَ عَلَيْهِ السَّيْفَ، قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ، فَقَتَلَهُ، فَجَاءَ الْبَشِيرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ، فَأَخْبَرَهُ حَتَّى أَخْبَرَهُ خَبَرَ الرَّجُلِ كَيْفَ صَنَعَ، فَدَعَاهُ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: لِمَ قَتَلْتَهُ؟ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهَ، أَوْجَعَ فِي الْمُسْلِمِينَ، وَقَتَلَ فُلَانًا وَفُلَانًا، وَسَمَّى لَهُ نَفَرًا، وَإِنِّي حَمَلْتُ عَلَيْهِ، فَلَمَّا رَأَى السَّيْفَ، قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَقَتَلْتَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَكَيْفَ تَصْنَعُ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، إِذَا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَغْفِرْ لِي، قَالَ: وَكَيْفَ تَصْنَعُ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، إِذَا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: فَجَعَلَ لَا يَزِيدُهُ عَلَى أَنْ يَقُولَ: " كَيْفَ تَصْنَعُ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، إِذَا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ ".
صفوان بن محرز نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے فتنے کے زمانے میں جندب بن عبد اللہ بجلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے عسعس بن سلامہ کو پیغام بھیجا اور کہا : میرے لیے اپنے ساتھیوں میں ایک نفری ( نفرتیں سے دس تک کی جماعت ) جمع کرو تاکہ میں ان سے بات کروں : چنانچہ عسعس نے اپنے ان ساتھیوں کی جانب ایک قاصد بھیجا جب و ہ جمع ہو گئے تو جندب ایک زرد رنگ کی لمبی ٹوپی پہنے ہوئےآئے اور کہا : جو باتیں تم کر رہے تھے ، وہ کرتے رہو ۔ یہاں تک کہ بات چیت کا دور چل پڑا ۔ جب بات ان تک پہنچی ( ان کے بولنے کی باری آئی ) تو انہوں نے اپنے سر سےلمبی ٹو‎پی اتار دی اور کہا : میں تمہارے پاس آیاتھا اور میرا ارادہ یہ نہ تھا کہ تمہیں تمہارے نبی سے کوئی حدیث سناؤں ( لیکن اب یہ ضروری ہو گیا ہے ) رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کا ایک لشکر مشرکین کی ایک قوم کی طرف بھیجا اور ان کے آمنا سامنا ہوا ۔ مشرکوں کا ایک آدمی تھا ، وہ جب مسلمانوں کے کسی آدمی پر حملہ کرنا چاہتا تو اس پر حملہ کرتا اور اسے قتل کر دیتا ۔ اور مسلمانوں کا ایک آدمی تھا جو اس ( مشرک ) کی بے دھیانی کا متلاشی تھا ، ( جندب بن عبد اللہ نے ) کہا : ہم ایک دوسرےسے کہتے تھے کہ وہ اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ہیں ۔ جب ان کی تلوار مارنے کی باری آئی تو اس نے لا إله إلا الله کہہ دیا ۔ لیکن انہوں نے اسے قتل کر دیا ۔ فتح کی خوش خبری دینے والا نبی ﷺ کے پاس پہنچا تو آپ نے اس سے ( حالات کے متعلق ) پوچھا ، اس نے آپ کو حالات بتائے حتی کہ اس آدمی ( حضرت اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) کی خبر بھی دے دی کہ انہوں کیا کیا ۔ آپ نے انہیں بلا کر پوچھا اور فرمایا : ’’ تم نے اسے کیوں قتل کیا ؟ ‘ ‘ ا نہوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اس نے مسلمانوں کو بہت ایذا پہنچائی تھی اور فلاں فلاں کو قتل کیا تھا ، انہوں نے کچھ لوگوں کے نام گنوائے ، ( پھر کہا : ) میں اس پر حملہ کیا ، اس نے جب تلوار دیکھی تو لا إله إلا الله کہہ دیا ۔ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ کیا تم نے اسے قتل کر دیا؟ ‘ ‘ ( اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) کہا ، جی ہاں ! فرمایا : ’’قیامت کے دن جب لا إله إلا الله ( تمہارے سامنے ) آئے گا تو اس کا کیا کرو گے ؟ ‘ ‘ ( اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ) عرض کی : اے اللہ کے رسول ! میرے لیے بخشش طلب کیجیے ۔ آپ نے فرمایا : ’’قیامت کےدن ( تمہارے سامنے کلمہ ) لا إله إلاالله آئے گا تو اس کا کیا کرو گے ؟ ‘ ‘ ( جندب بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ) کہا : رسول اللہ ﷺ ان سے مزید کوئی بات نہیں کر رہے تھے ، یہی کہہ رہے تھے : ’’قیامت کے دن لا إله إلا الله ( تمہارے سامنے ) آئے گا تو اس کیا کرو گے ؟ ‘ ‘
صحيح مسلم • حدیث #279
277 278 279 280 281

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#274 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ وَاللَّف...
ليث نے ابن شہاب ( زہری ) سے ، انہوں نے عطاء بن یزید لیثی سے روایت کی کہ مقداد بن اسود ‌رضی ‌اللہ ‌عن...
#275 حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ...
امام مسلم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے معمر ، اوزاعی اور ابن جریج کی الگ الگ سندوں کےساتھ زہری سے سابقہ سن...
#276 وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ا...
یونس نے ابن شہاب نے خبر دی ، انہوں نےکہا : مجھے عطاء بن یزید لیثی جندعی نے بیان کیا کہ عبید اللہ بن ...
#277 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ . ح وحَدَّثَنَا أَ...
ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں ابو خالد احمر نے حدیث سنائی اور ابو کریب اور اسحاق بن ابراہیم نے اب...
#278 حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو ...
حصین نے کہا : ہمیں ابو ظبیان نے حدیث سنائی ، انہوں نےکہا : میں نے اسامہ بن زید بن حارثہ ‌رضی ‌اللہ ‌...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ