📖 صحيح مسلم • فہرست کتب (Book Index) ↗

صحيح مسلم - حدیث نمبر 279

Sahih Muslim Hadith 279 (صَحِيحُ مُسْلِمٍ)
کتاب #1 📁 ایمان کے احکام و مسائل (كِتَاب الْإِيمَانِ) ← 🏷️ باب: کافر کو لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد قتل کرنا حرام ہے۔
عربی:
اردو:
صحيح مسلم حدیث نمبر: 279 🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 97 Sahih Muslim 279
کتاب #1: ایمان کے احکام و مسائل
41: باب تَحْرِيمِ قَتْلِ الْكَافِرِ بَعْدَ أَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ:
🏷️ باب: کافر کو لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد قتل کرنا حرام ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِر ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، أَنَّ خَالِدًا الأَثْبَجَ ابْنَ أَخِي صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ حَدَّثَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَ، أَنَّ جُنْدَبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيَّ ، بَعَثَ إِلَى عَسْعَسِ بْنِ سَلَامَةَ زَمَنَ فِتْنَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ: اجْمَعْ لِي نَفَرًا مِنْ إِخْوَانِكَ حَتَّى أُحَدِّثَهُمْ، فَبَعَثَ رَسُولًا إِلَيْهِمْ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا، جَاءَ جُنْدَبٌ وَعَلَيْهِ بُرْنُسٌ أَصْفَرُ، فَقَالَ: تَحَدَّثُوا بِمَا كُنْتُمْ تَحَدَّثُونَ بِهِ، حَتَّى دَارَ الْحَدِيثُ، فَلَمَّا دَارَ الْحَدِيثُ إِلَيْهِ، حَسَرَ الْبُرْنُسَ عَنْ رَأْسِهِ، فَقَالَ: إِنِّي أَتَيْتُكُمْ وَلَا أُرِيدُ أَنْ أُخْبِرَكُمْ عَنْ نَبِيِّكُمْ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْثًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَى قَوْمٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، وَإِنَّهُمُ الْتَقَوْا، فَكَانَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِذَا شَاءَ أَنْ يَقْصِدَ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَصَدَ لَهُ فَقَتَلَهُ، وَإِنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَصَدَ غَفْلَتَهُ، قَالَ: وَكُنَّا نُحَدَّثُ أَنَّهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، فَلَمَّا رَفَعَ عَلَيْهِ السَّيْفَ، قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ، فَقَتَلَهُ، فَجَاءَ الْبَشِيرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ، فَأَخْبَرَهُ حَتَّى أَخْبَرَهُ خَبَرَ الرَّجُلِ كَيْفَ صَنَعَ، فَدَعَاهُ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: لِمَ قَتَلْتَهُ؟ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهَ، أَوْجَعَ فِي الْمُسْلِمِينَ، وَقَتَلَ فُلَانًا وَفُلَانًا، وَسَمَّى لَهُ نَفَرًا، وَإِنِّي حَمَلْتُ عَلَيْهِ، فَلَمَّا رَأَى السَّيْفَ، قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَقَتَلْتَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَكَيْفَ تَصْنَعُ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، إِذَا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَغْفِرْ لِي، قَالَ: وَكَيْفَ تَصْنَعُ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، إِذَا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: فَجَعَلَ لَا يَزِيدُهُ عَلَى أَنْ يَقُولَ: " كَيْفَ تَصْنَعُ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، إِذَا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ ".
صفوان بن محرز نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے فتنے کے زمانے میں جندب بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے عسعس بن سلامہ کو پیغام بھیجا اور کہا: میرے لیے اپنے ساتھیوں میں ایک نفر (نفر سے دس تک کی جماعت) جمع کرو تاکہ میں ان سے بات کروں: چنانچہ عسعس نے اپنے ان ساتھیوں کی جانب ایک قاصد بھیجا جب وہ جمع ہو گئے تو جندب ایک زرد رنگ کی لمبی ٹوپی پہنے ہوئے آئے اور کہا: جو باتیں تم کر رہے تھے، وہ کرتے رہو۔ یہاں تک کہ بات چیت کا دور چل پڑا۔ جب بات ان تک پہنچی (ان کے بولنے کی باری آئی) تو انہوں نے اپنے سر سے لمبی ٹوپی اتار دی اور کہا: میں تمہارے پاس آیا تھا اور میرا ارادہ یہ نہ تھا کہ تمہیں تمہارے نبی سے کوئی حدیث سناؤں (لیکن اب یہ ضروری ہو گیا ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کا ایک لشکر مشرکین کی ایک قوم کی طرف بھیجا اور ان کے آمنے سامنے ہوا۔ مشرکوں کا ایک آدمی تھا، وہ جب مسلمانوں کے کسی آدمی پر حملہ کرنا چاہتا تو اس پر حملہ کرتا اور اسے قتل کر دیتا۔ اور مسلمانوں کا ایک آدمی تھا جو اس (مشرک) کی بے دھیانی کا متلاشی تھا، (جندب بن عبداللہ نے) کہا: ہم ایک دوسرے سے کہتے تھے کہ وہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ ہیں۔ جب ان کی تلوار مارنے کی باری آئی تو اس نے لا إله إلا اللہ کہہ دیا۔ لیکن انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ فتح کی خوشخبری دینے والا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ نے اس سے (حالات کے متعلق) پوچھا، اس نے آپ کو حالات بتائے حتیٰ کہ اس آدمی (حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ) کی خبر بھی دے دی کہ انہوں نے کیا کیا۔ آپ نے انہیں بلا کر پوچھا اور فرمایا: ”تم نے اسے کیوں قتل کیا؟“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے مسلمانوں کو بہت ایذا پہنچائی تھی اور فلاں فلاں کو قتل کیا تھا، انہوں نے کچھ لوگوں کے نام گنوائے، (پھر کہا:) میں اس پر حملہ کیا، اس نے جب تلوار دیکھی تو لا إله إلا اللہ کہہ دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے اسے قتل کر دیا؟“ (اسامہ رضی اللہ عنہ) کہا: جی ہاں! فرمایا: ”قیامت کے دن جب لا إله إلا اللہ (تمہارے سامنے) آئے گا تو اس کا کیا کرو گے؟“ (اسامہ رضی اللہ عنہ نے) عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرے لیے بخشش طلب کیجیے۔ آپ نے فرمایا: ”قیامت کے دن (تمہارے سامنے کلمہ) لا إله إلا اللہ آئے گا تو اس کا کیا کرو گے؟“ (جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے مزید کوئی بات نہیں کر رہے تھے، یہی کہہ رہے تھے: ”قیامت کے دن لا إله إلا اللہ (تمہارے سامنے) آئے گا تو اس کیا کرو گے؟“ [صحيح مسلم/حدیث: 279]
صحيح مسلم • حدیث #279
277 278 279 280 281

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#274 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ وَاللَّف...
لیث نے ابن شہاب (زہری) سے، انہوں نے عطاء بن یزید لیثی سے روایت کی کہ مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے عبیداللہ بن عدی بن خی...
#275 حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ...
امام مسلم رضی اللہ عنہ نے معمر، اوزاعی اور ابن جریج کی الگ الگ سندوں کے ساتھ زہری سے سابقہ سند کے ساتھ روایت کی، اوزاعی ...
#276 وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ا...
یونس نے ابن شہاب نے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے عطاء بن یزید لیثی جندعی نے بیان کیا کہ عبیداللہ بن عدی بن خیار نے اسے خبر...
#277 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ . ح وحَدَّثَنَا أَ...
ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں ابوخالد احمر نے حدیث سنائی اور ابوکریب اور اسحاق بن ابراہیم نے ابومعاویہ سے اور ان دونوں...
#278 حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو ...
حصین نے کہا: ہمیں ابوظبیان نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں نے اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو حدیث بیان کرتے ہوئے...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ